تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 192
192 66 چاہیئے۔کیونکہ ہو سکتا ہے کہ سُنانے والا کوئی چیز چھوڑ گیا ہو۔۔۔“ آخر میں حضور نے اسلام اور مسلمانوں کی موجودہ دردناک حالت کا نقشہ کھینچا اور فرمایا:۔ایک بچہ کے رونے کی آواز سنکر ماں اپنا کام چھوڑ دیتی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی آواز آئے اور عورتیں اپنا کام چھوڑ نہ دیں۔ایک عزیز کی تکلیف کو دیکھ کر انسان کے اندر جوش پیدا ہو جاتا ہے پھر کتنے تعجب کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کے دین کے دُکھ اور تکلیف کو دیکھ کر ہمارے اندر کوئی جوش پیدا نہ ہو۔خدا تعالیٰ اور اس کا رسول اس وقت مدد کے لئے پکار رہے ہیں اور ہر عورت اور ہر مرد کا فرض ہے کہ وہ آگے بڑھے اور دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرے۔“ اے لجنہ اماءاللہ کوئٹہ کی تنظیم : اگست ۱۹۵۰ء میں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہا بھی حضور کے ہمراہ کوئٹہ میں تشریف رکھتی تھیں وہاں پر آپ نے لجنہ اماءاللہ کوئٹہ کی از سرنو تنظیم فرمائی اور کام کو بہتر بنانے کے لئے چھاؤنی کا الگ حلقہ مقرر کیا۔آپ کی موجودگی میں لجنہ اماءاللہ کا ایک جلسہ مسجد احمدیہ میں منعقد ہو ا جس میں آپ نے بھی تقریر فرمائی اور عورتوں کو ضروری ہدایات دیں۔آپ کی سعی کی وجہ سے لجنہ اماءاللہ کوئٹہ کی تنظیم مضبوط ہوگئی اور اس میں بیداری پیدا ہوئی۔ہے حضرت خلیفہ امسیح الثانی کالجنہ اماءاللہ کراچی سے خطاب : ماہ تمبر ۱۹۵۰ء میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی کراچی تشریف لے گئے۔وہاں پر ۱۷۔ستمبر کو حضور نے احمد یہ ہال کراچی میں لجنہ اماءاللہ کراچی سے ایک اہم خطاب فرمایا۔انسانی پیدائش کی غرض بیان فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا:۔" يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ - اے مردو اور عور تو تم پناہ اور ڈھال کے طور پر بنالو اپنے رب کو الَّذِی خَلَقَكُمُ وہ جس نے تم کو پیدا کیا مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ایک ہی قسم کی طاقتوں کے ساتھ ایک له الفضل ۹۔اگست ۱۹۵۰ ء ص ۶ ، الازهار لذوات الخمارص۸۱ الفضل ۲۷۔اگست ۱۹۵۰ء ص ۴۲ کالم نمبرم