تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 182
182 صاحبہ اہلیہ مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری (مغربی افریقہ ) ۲۳ محترمه لطیفن صاحبہ اہلیہ ایس۔احمد اسمعیل صاحب ( سیلون ) و محترمہ رقیہ صادق صاحبہ اہلیہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب (مالا بار) ۲۴۔چوبیسیوں اینٹ حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ مرحومہ، حضرت سیدہ ساڑہ بیگم صاحبہ مرحومہ و حضرت سیدہ اُئِم طاہر صاحبہ مرحومہ کی یادگار کے طور پر صدر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ حضرت اُمم ناصر صاحبہ نے رکھی۔آخری اینٹ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہا جنرل سیکرٹری لجنہ اماء الله مرکز یہ ومحترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ و محترمہ سراج بی صاحبہ نے رکھی۔اس کے بعد دعا ہوئی اور دعا کے بعد شیرینی تقسیم کی گئی۔محترمه استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ چونکہ لائکپور گئی ہو ئیں تھیں اس لئے انہوں نے واپس آکر صحابیہ اور سیکرٹری مال لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی حیثیت سے اینٹ رکھی لے حضور کی طرف سے اظہار خوشنودی اور چندہ کی تحریک: قریباً اسی ہزار روپیہ کی لاگت سے یہ دفتر ۱۹۵۲ء میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔حضور نے ۲۷۔دسمبر ۱۹۵۱ء کے جلسہ سالانہ کی تقریر میں (جو حضور نے مردانہ جلسہ گاہ میں فرمائی ) فرمایا کہ:۔جس بات کی انہوں نے نے مجھ سے خواہش کی ہے وہ یہ ہے کہ میں عورتوں میں تحریک کروں کہ لجنہ اماءاللہ کا دفتر بن گیا ہے وہ اس کے چندہ کی طرف زیادہ توجہ کریں۔اس میں تو میں سمجھتا ہوں کہ عورتوں نے پھر ہم پر بازی لے لی ہے۔مردوں کے دفتر بھی بنیادوں سے ہی نیچے پڑے ہوئے ہیں اور سال سال دو دو سال سے رقمیں بھی منظور ہو چکی ہیں۔سامان بھی آچکے ہیں اور افسر بھی مقرر ہو چکے ہیں اور انجینئر بھی ہیں۔لیکن وہ ابھی تک ابتدائی مراحل سے بھی نہیں گزرے مگر عورتوں کا دفتر خدا تعالی کے فضل سے مکمل ہو چکا ہے صرف پر دہ بنانے میں افسر نے کسی قدر سستی کی ہے۔اگر وہ الفضل ۷۔جون ۱۹۵۰ ء ورجسٹر کا رروائی لجنہ اماءاللہ مرکزیہ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی جنرل سیکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکز یہ مراد ہیں