جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 87 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 87

87 سالا نہ تک پہنچ گیا اور ہر سال جماعت بڑے اخلاص کے ساتھ اس میں حصہ لیتی ہے پوری دنیا میں دین حق کی تعلیم و تربیت کا سب کام اسی تحریک جدید کی برکت سے اور اسی چندہ سے کیا جا رہا ہے۔خلافت جو ہلی حضرت خلیفہ امسح الثانی 1914ء میں خلیفہ بنے تھے۔1939 ء میں آپ کی کامیاب اور بابرکت خلافت کا 25 برس کا عرصہ پورا ہو گیا۔حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے جماعت میں یہ تحریک پیش کی کہ خلافت ثانیہ کے 25 سال پورے ہونے پر جماعت کی طرف سے خوشی اور شکر الہی کے اظہار کیلئے 3 لاکھ روپے کی رقم جمع کر کے ایک خاص تقریب میں حضور کی خدمت میں پیش کرے اور درخواست کرے کہ اس حقیر رقم کو حضور جس طرح چاہیں دین کی خدمت میں صرف فرمائیں۔چنانچہ دسمبر 1939ء میں جلسہ سالانہ کے موقع پر یہ تقریب جو خلافت ثانیہ کی سلور جو بلی کہلاتی ہے منائی گئی اور تین لاکھ روپیہ جماعت نے حضور کی خدمت میں پیش کیا۔حضور نے اعلان فرمایا کہ اس رقم کو مختلف دینی ضروریات پر صرف کیا جائے گا۔جلسه سالانه جماعت احمدیہ کا جلسہ سالانہ بھی اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک بہت بڑا نشان ہے۔جلسہ سالانہ کی بنیاد حضرت مسیح موعود نے رکھی۔سب سے پہلا جلسہ 1891ء میں ہوا۔جس میں صرف 75 افراد شریک ہوئے۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں آخری جلسہ میں جو دسمبر 1907ء میں ہوا دو ہزار سے زائد افراد شامل ہوئے۔پھر حضرت خلیفہ اول کا زمانہ شروع ہوا۔آپ کے عہد خلافت کے آخری جلسہ میں جو 1913ء میں ہوا جلسہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد 3 ہزار سے او پر تھی۔