جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 39
39 شکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں میں نے لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔“ (ایام الصلح صفحہ 121) حضور کی اس پیشگوئی کے عین مطابق اگلے جاڑے کے موسم میں پنجاب کے مختلف حصوں میں طاعون کی بیماری پھوٹ نکلی اور پھر کئی سالوں تک اس نے وہ تباہی مچائی کہ قیامت کا نمونہ سامنے آگیا۔ہزاروں دیہات، قصبے اور شہر ویران ہو گئے۔حضور کی یہ پیشگوئی پوری ہونے پر کثرت سے لوگوں نے حضور کی بیعت کی اور جماعت احمدیہ میں شامل ہو گئے۔منارة اع: 28 رمئی 1900ء کو حضرت مسیح موعود نے رسول کریم صل اللہ کی ایک حدیث کی منشاء کے مطابق قادیان کی مسجد اقصیٰ میں ایک مینار تعمیر کرنے کی تحریک جماعت کو فرمائی۔چنانچہ اس غرض سے چندہ جمع ہونا شروع ہو گیا۔آخر 1903ء میں حضور نے اس مینارہ کی بنیاد رکھی لیکن بعد میں مالی مشکلات کی وجہ سے یہ کام بند ہو گیا۔بالآخر حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے عہد میں 1914ء میں اس کی تعمیر کا کام پھر شروع کیا گیا اور دسمبر 1916ء میں اس کی تکمیل ہوئی۔فرقه احمدیه 1901ء میں حضرت مسیح موعود نے ایک اشتہار کے ذریعہ سے اپنی جماعت کا نام فرقہ احمدیہ تجویز فرمایا۔چنانچہ اس وقت سے ہماری جماعت