جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 40 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 40

40 ” جماعت احمدیہ“ کہلاتی ہے اور حضرت مسیح موعود کو ماننے والے احمدی۔کہلاتے ہیں۔حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید : حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب ملک افغانستان کے علاقہ خوست کے رہنے والے ایک بہت بڑے بزرگ تھے۔اُن کے ہزاروں مرید تھے۔ان کی شہرت اور بزرگی کا یہ حال تھا کہ افغانستان کے حکمران حبیب اللہ خان (امیر کابل ) نے تاجپوشی کے موقع پر دستار بندی کی رسم ادا کرنے کے لئے انہیں ہی بلا یا تھا۔آپ کو کسی ذریعہ سے حضرت مسیح موعود کی چند کتابیں مل گئیں۔انہیں پڑھنے کا موقع ملا جن سے آپ بہت متاثر ہوئے۔1903ء میں آپ حضرت مسیح موعود کی زیارت کرنے کے لئے قادیان تشریف لائے۔حضور کو دیکھتے ہی ایمان لے آئے اور حضور کی صحبت میں اتنے محو ہو گئے کہ کئی مہینوں تک قادیان میں مقیم رہے۔قادیان میں آپ کو کئی بار ایک الہام ہوا جس کا مفہوم یہ تھا کہ تو احمدیت کی راہ میں اپنے آپ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔آخر حضور کی اجازت سے واپس وطن تشریف لے گئے۔جب حبیب اللہ خان امیر کا بل کو یہ علم ہوا کہ آپ احمدی ہو گئے ہیں تو اُس نے آپ کو گرفتار کر لیا۔چار مہینے آپ قید میں رہے۔اس عرصہ میں امیر کا بل اور دوسرے لوگوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح آپ احمدیت کو چھوڑ دیں لیکن آپ نے فرمایا جسے میں نے حق سمجھا ہے اسے میں کیسے چھوڑ دوں؟ آخر کابل کے مولویوں نے آپ پر کافر ہو جانے کا فتویٰ لگا دیا اور امیر کابل نے آپ کو سنگسار کرنے (پتھر مار مار کر شہید کرنے ) کا حکم دیا۔14 جولائی 1903ء کو جب آپ کو سنگسار کیا جانے لگا تو اُس وقت پھر آپ کو کہا گیا