جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 109
109 باشندوں نے حضور کا یہ خطاب سنا اور اس سے بہت متاثر ہوئے۔دنیا بھر کے اخباروں، رسالوں، ریڈیو اور ٹیلیویژن نے اس کا نفرنس کی تفصیلی خبریں اپنے اپنے ملکوں میں سنائیں اور دکھا ئیں۔عیسائی مذہب کے لیڈروں نے جب دیکھا کہ یہ کانفرنس بڑی کامیاب ہورہی ہے تو وہ بہت گھبرائے۔اس کا اثر زائل کرنے کے لئے انہوں نے حضرت خلیفہ مسیح الثالث کو تبادلۂ خیال کی دعوت دی لیکن جب حضور نے اسے منظور کرنے کا اعلان کیا تو مختلف بہانے بنا کر ٹال گئے۔اور گفتگو کرنے سے انکار کر دیا۔اس طرح اپنے عمل سے عیسائیت کی شکست اور اسلام کی فتح کا اعتراف کر لیا۔الحمد للہ ! محترم ڈاکٹر عبدالسلام کا اعزاز : حضرت مسیح موعود نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ :- ”میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔“ (تجلیات الہیہ ) حضور کی یہ پیشگوئی مختلف رنگوں میں بار بار پوری ہوتی رہی ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ پوری ہوتی رہے گی۔خلافت ثالثہ کے مبارک دور میں اس کا ایک عظیم الشان ظہور اس طرح ہوا کہ حضرت مسیح موعود کی جماعت کے ایک نامور اور مخلص فرزند محترم پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو ( جو کہ عالمی شہرت رکھنے والے مشہور سائنسدان ہیں ) دنیا کا سب سے بڑا اعزاز حاصل ہوا یعنی فزکس کے شعبہ میں نوبل پرائز ملا ہے۔آپ دنیا