جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 108 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 108

108 (1) رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (ب) اَللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُهُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِن شَرُورِهِمْ ط لندن میں بین الاقوامی کسر صلیب کا نفرنس : حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے مبارک عہد خلافت کا اور احمدیت کی تاریخ کا ایک نہایت اہم واقعہ یہ ہے کہ 2 تا 4 جون 1978ء کولندن میں جو کہ گویا صلیبی مذہب (عیسائیت) کا مرکز ہے۔جماعت احمدیہ کے انتظام کے ماتحت ایک بین الاقوامی کسر صلیب کا نفرنس منعقد ہوئی۔جس میں دنیا بھر سے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے علماء شامل ہوئے اور انہوں نے اپنے اپنے تحقیقی اور علمی مضامین اس میں پڑھ کر سنائے جن میں یہ ثابت کی گیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ غلط ہے اور حضرت مسیح موعود نے ان کی وفات کا جو نظریہ پیش کیا ہے وہ ہر لحاظ سے صحیح اور درست ثابت ہوا ہے۔ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس کا نفرنس میں شامل ہوئے جو کہ پاکستان، ہندوستان، افریقہ، امریکہ، یورپ اور ایشیا کے دیگر مختلف ملکوں سے آئے تھے۔اس کا نفرنس میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے بھی تشریف لے جا کر شرکت فرمائی۔حضور نے اس موقعہ پر ایک اہم خطاب فرمایا جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق عیسائیوں کے اس عقیدہ کا غلط ہونا ثابت کیا کہ وہ خدا تھے اور اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں۔گویا حضور نے عیسائیوں کے گڑھ میں جا کر انہیں اسلام کی تبلیغ فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول اکرم صل اللہ کی رسالت اور آپ کی بلند شان کا اظہار فرمایا۔یورپ اور انگلستان کے ہزاروں