تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 57
جلد اول 52 99 تاریخ احمدیت بھارت کر سادگی کو اپنانا چاہیئے اور تصوف اور سادہ زندگی اور نماز و روزہ کی طرف توجہ اور دعاؤں کا شغف جماعت میں پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔6 - قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر انگریزی وار دو جلد جلد شائع ہوں۔میں نے اپنے مختصر نوٹ بھجوادیئے ہیں۔اس وقت تک جو تر جمہ ہو چکا ہے اس کی مدد سے اور تیار کیا جا سکتا ہے۔ترجمہ کرنے والا دعا ئیں بہت کرے۔7- ان مصائب کی وجہ سے خدا تعالیٰ پر بدظنی نہ کرنا۔اللہ تعالیٰ جماعت کو کبھی ضائع نہ کر دیگا۔پہلے نبیوں کو بڑی بڑی تکالیف پہنچ چکی ہیں۔عزت وہی ہے جو خدا اور بندے کے تعلق سے پیدا ہوتی ہے۔مادی اشیاء سب فانی ہیں خواہ وہ کتنی ہی بزرگ یا قیمتی ہوں۔ہاں خدا تعالیٰ کا فضل مانگتے رہو شاید کہ وہ یہ پیالہ ٹلا دے۔والسلام خاکسار (دستخط) مرزامحموداحمد خلیفه امسیح) (6) سانحہ داغ ہجرت آپہنچا 30/8/47 احمدیت کی تاریخ میں ذکر آتا ہے کہ مورخہ 27 اپریل 1908ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان سے لاہور ( جو آپ کا آخری سفر ثابت ہوا ) تشریف لے جانے لگے تو دارا سیح کے ایک حجرے کو قفل لگاتے ہوئے آپ نے فرمایا ”اب ہم اس کمرہ کو نہیں کھولیں گے“ (7) مورخہ 31 اگست 1947ء کو تاریخ اپنے آپ کو ایک بار پھر دوہرا رہی تھی۔اس روز حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب کو قصر خلافت میں بلا یا اور کمرہ ان کے سپر دکیا۔اور اس میں قیام پذیر ہونے کی ہدایت فرمائی۔گو یا تقدیر الہی سمجھا رہی تھی کہ آپ وانا الْمَسِيحُ المَوْعُوْدُ مَثِيْلُه وخَلِيفَتُهُ رض کے مصداق ہیں۔آپ کا بھی قادیان سے لاہور کا یہ سفر، آخری سفر ہی ہوگا۔اور آپ اس کمرہ کو نہیں کھولیں گے۔