تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 58 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 58

تاریخ احمدیت بھارت 53 جلد اوّل حضور قریباً ایک بجے مسجد مبارک کے نیچے تشریف لائے اور احمد یہ چوک میں موٹر گاڑی میں سوار ہوئے۔سوا ایک بجے حضرت نواب محمد علی صاحب کی کوٹھی (دارالسلام واقع محلہ دارالعلوم ) پہنچے۔جہاں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب،صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب ،صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب اور نواب زادہ میاں عباس احمد خان صاحب اور ان کے علاوہ خاندان مسیح موعود کے بعض اور افراد نے حضور کو الوداع کہا اور حضور یہاں سے بذریعہ موٹر روانہ ہوکر ساڑھے چار بجے کے قریب لاہور پہنچ گئے۔الحمد للہ علی ذالک۔اس تاریخی سفر میں حضرت سید ہ ام متین صاحبہ اور حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبه (حرم حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد ) بھی حضور کے ہمراہ تھیں۔(8) حضرت مصلح موعود کی قادیان سے ہجرت کے حالات حضرت المصلح الموعودؓ نے قادیان سے ہجرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: جماعتی طور پر ایک بہت بڑا ابتلاء 1947ء میں آیا اور الہی تقدیر کے ماتحت ہمیں قادیان چھوڑنا پڑا۔شروع میں میں سمجھتا تھا کہ جماعت کا جرنیل ہونے کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ قادیان میں لڑتا ہوا مارا جاؤں ورنہ جماعت میں بزدلی پھیل جائے گی۔اور اس کے متعلق میں نے باہر کی جماعتوں کو چٹھیاں بھی لکھ دی تھیں۔لیکن بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کے مطالعہ سے مجھ پر یہ امر منکشف ہوا کہ ہمارے لئے ایک ہجرت مقدر ہے۔اور ہجرت ہوتی ہی لیڈر کے ساتھ ہے۔ویسے تو لوگ اپنی جگہیں بدلتے ہی رہتے ہیں مگر اسے کوئی ہجرت نہیں کہتا۔ہجرت ہوتی ہی لیڈر کے ساتھ ہے۔پس میں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کی مصلحت یہی ہے کہ میں قادیان سے باہر چلا جاؤں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کے مطالعہ سے میں نے سمجھا کہ ہماری ہجرت یقینی ہے۔اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مجھے قادیان چھوڑ دینا چاہیئے تو اس وقت لاہور فون کیا گیا کسی نہ کسی طرح ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے ،لیکن