تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 56
تاریخ احمدیت بھارت دوسرا پیغام 51 جلد اول مؤرخہ 30 /اگست 1947ء کو ہی حضور نے ایک دوسرا پیغام بیرونی جماعتوں کی طرف ارسال فرمایا ، جس کا متن درج ذیل ہے۔اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر جماعت کو ہدایات جو فوراً شائع کر دی جائیں۔باوجود بار بار زور دینے کے لاہور کی جماعت نے کنوائے نہیں بھجوائے جس کی وجہ سے قادیان کا بوجھ حد سے زیادہ ہو گیا۔اگر کنوائے آتے تو شاید میں بھی چلا جاتا اور جب مسٹر جناح اور پنڈت جی آئے تھے۔ان سے کوئی مشورہ کرتا مگر افسوس کہ فرض شناسی نہیں کی گئی۔1- اگر قادیان میں کوئی حادثہ ہو جائے تو پہلا فرض جماعت کا یہ ہے کہ شیخو پورہ یا سیالکوٹ میں ریل کے قریب لیکن نہایت سستی زمین لے کر ایک مرکزی گاؤں بسائے مگر قادیان والی غلطی نہیں کہ کوٹھیوں پر زور ہو۔سادہ عمارات ہوں۔فوراً ہی کالج اور سکول اور مدرسہ احمدیہ اور جامعہ کی تعلیم کو جاری کیا جائے۔دینیات کی تعلیم اور اس پر عمل کرنے پر ہمیشہ زور ہو۔علماء بڑے سے بڑے پیدا کرتے رہنے کی کوشش کی جائے۔2 تبلیغ کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے۔وقف کے اصول پر جلد سے جلد کافی مبلغ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔3- اگر میں مارا جاؤں یا اور کسی طرح جماعت سے الگ ہو جاؤں تو پہلی صورت میں فوراً خلیفہ کا انتخاب ہو اور دوسری صورت میں ایک نائب خلیفہ کا۔4- جماعت باوجود ان تلخ تجربات کے شورش اور قانون شکنی سے بچتی رہے اور اپنی نیک نامی کے ورثہ کو ضائع نہ کرے۔5- ہمارے کاموں میں ایک حد تک مغربیت کا اثر آگیا تھا۔یعنی محکمانہ کاروائی زیادہ ہوگئی تھی۔اسے چھوڑ