تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 55
جلد اول 50 تاریخ احمدیت بھارت کے ہر حکم پر اس طرح قربانی کرو جس طرح محمد رسول اللہ صلی الی السلام نے فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِى فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى أَمِيرِى فَقَدْ عَصَانِي یعنی جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔پس جو ان کی اطاعت کرے گا وہ میری اطاعت کرے گا۔اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت کرے گا وہ رسول کریم سنای ایتم کی اطاعت کرے گا اور وہی مومن کہلا سکتا ہے دوسرا نہیں۔اے عزیز و! احمدیت کی آزمائش کا وقت اب آئے گا۔اور اب معلوم ہوگا کہ سچا مومن کونسا ہے۔پس اپنے ایمانوں کا ایسا نمونہ دکھاؤ کہ پہلی قوموں کی گردنیں تمہارے سامنے جھک جائیں اور آئندہ نسلیں تم پر فخر کریں۔شاید مجھے تنظیم کی غرض سے کچھ اور آدمی قادیان سے باہر بھجوانے پڑیں۔مگر وہ میرے خاندان میں سے نہ ہوں گے بلکہ علماء میں سے ہوں گے۔اس سے پہلے بھی میں کچھ علماء باہر بھجوا چکا ہوں۔تم ان پر بدظنی نہ کرو وہ بھی تمہاری طرح اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے کے لئے تیار ہیں۔لیکن خلیفہ وقت کا حکم انہیں مجبور کر کے لے گیا۔پس وہ ثواب میں بھی تمہارے ساتھ شریک ہیں اور قربانی میں بھی تمہارے ساتھ شریک ہیں۔ہاں وہ لوگ جو آنوں بہانوں سے اجازت لے کر بھاگنا چاہتے ہیں وہ یقیناً کمزور ہیں۔خدا تعالیٰ ان کے گناہ بخشے اور بچے ایمان کی حالت میں جان دینے کی توفیق دے۔اے عزیز و! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہر وقت تمہارے ساتھ رہے اور مجھے جب تک زندہ ہوں بچے طور پر اور اخلاص سے تمہاری خدمت کی توفیق بخشے اور تم کو مومنوں والے اخلاص اور بہادری سے میری رفاقت کی توفیق بخشے۔خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو اور آسمان کی آنکھ تم میں سے ہر مرد ہر عورت اور ہر بچہ کوسچا خلص دیکھے اور خدا تعالیٰ میری اولاد کو بھی اخلاص اور بہادری سے سلسلہ کی خدمت کرنے کی توفیق بخشے۔والسلام خاکسار (دستخط) مرزا محموداحمد (خلیفہ مسیح (5) 30/8/1947