تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 21
جلد اوّل 20 تاریخ احمدیت بھارت دور کا احساس ہو۔اور آپ اپنی غفلت کو چھوڑ کر آنے والے مصائب کے لئے تیار ہو جائیں۔قبل از وقت میں آپ کو جو کچھ کہہ رہا تھا۔وہ اللہ تعالیٰ کے علم کی بناء پر تھا۔اور خدا کی باتیں جھوٹی نہیں ہوسکتیں۔اس کی طرف سے دی ہوئی غیب کی خبریں ایک ایک کر کے پوری ہو رہی ہیں۔اور جس جس طرح بدلنے والے حالات کی طرف اشارہ کیا گیا تھا وہ بعینہ پورے ہو رہے ہیں۔دنیا میں ہر شخص کے لئے آزادی ہے سوائے ہمارے کہ ہم اپنے مقدس مقامات کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ایک عمارت جو مٹی اور اینٹوں کی بنی ہوئی ہے اس سے ایک مومن کی جان کہیں قیمتی ہوتی ہے لیکن جب وہ عمارت اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے لگے اور شعائر اللہ بن جائے تو اس کی حفاظت کے لئے سینکڑوں مومنوں کی جان بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور انہیں خوشی سے قربان کیا جا سکتا ہے۔پس جماعت نے اگر ان باتوں کو مدنظر نہیں رکھا تھا تو میرا فرض تھا کہ میں انہیں احساس ذمہ داری دلاؤں اور ان کے مونہوں سے کہلواؤں کہ ہم سے غفلت ہوئی۔سو میں سمجھتا ہوں کہ وہ غرض پوری ہوگئی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ وہ کمی کس طرح پوری کی جائے۔ہمارے عام چندے تو ان اخراجات کے متحمل نہیں ہو سکتے ہمیں کوئی اور ہی طریق اختیار کرنے ہوں گے۔سو اس کے لئے جماعت سے میرا سب سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ وہ دوست جن کی رقوم باہر بنکوں میں جمع ہیں وہ بطور امانت قادیان بھیجد یں تا کہ سلسلہ کو اگر کوئی فوری ضرورت پڑے تو اس میں سے خرچ کر سکے۔اور پھر آہستہ آہستہ اس کمی کو پورا کر دے۔یہ رقوم بطور امانت کے ہوں گی اور بوقت ضرورت واپس مل سکیں گی۔اس طرح سلسلہ کی ضرورت بھی پوری ہو جائے گی اور آپ لوگوں کے ایمان کا امتحان بھی ہو جائے گا۔جو دوست اس تحریک پر لبیک کہنے کے لئے تیار ہوں وہ اپنے نام اور رقوم لکھا دیں“۔حضور کی زبان سے ان الفاظ کا نکلنا ہی تھا کہ مخلصین نے نہایت ذوق و شوق سے اپنے نام لکھانے شروع کر دیئے۔ہر چہرہ سے یہی اضطراب ظاہر ہوتا تھا وہ دوسروں سے سبقت لینا چاہتا ہے اور ہر دل مضطر تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ رقوم اپنے آقا کے قدموں میں ڈال دے۔قریباً نصف گھنٹہ کے عرصہ میں -/371000 روپے کے وعدے ہوئے جس کا حضور نے کھڑے ہو کر اعلان کیا اور فرمایا کبھی کچھ دوست رہتے ہیں جو سوچ رہے ہونگے اور اکثر ایسے بھی ہیں جنہوں نے مشورہ وغیرہ کرنا ہوگا۔اور ابھی ہزاروں ہزار دوست ایسے ہیں جو ہم سے کسی طرح