تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 22
تاریخ احمدیت بھارت 21 جلداول اخلاص میں کم نہیں ہیں مگر وہ اس وقت دور بیٹھے ہیں۔جب آپ لوگ جا کر ان کو اطلاع دیں گے تو وہ کبھی بھی آپ سے پیچھےنہ رہیں گے اور ممکن ہے مطلوبہ رقم سے بہت زیادہ روپیہ جمع ہو جائے۔“ اس کے بعد فرمایا ”سب سے پہلے میں جائیداد کے وقف کو لیتا ہوں جو خدا تعالیٰ کے الہام کے ماتحت جاری کیا گیا ہے۔مگر میں نہایت افسوس سے کہتا ہوں کہ جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی۔اور صرف دو ہزار آدمیوں نے اس وقت تک اس میں حصہ لیا ہے۔حالانکہ لاکھوں کی جماعت ہے اور لاکھوں کی جماعت میں سے لاکھوں ہی کو وقف کرنا چاہیئے تھا۔آپ میں سے جن دوستوں نے اپنی آمد یا جائیدا د وقف کی ہوئی ہے وہ کھڑے ہو جائیں (اس پر 455 میں سے جو ہال میں تھے صرف 167 کھڑے ہوئے ) فرمایا " یہ تعداد ہے جو 35 فیصدی کے قریب بنتی ہے۔اس پر دوسری جماعت کا بھی اندازہ کر لیں۔آپ میں سے جو لوگ اس وقت وقف کرنا چاہیں وہ بھی اپنے نام اور جائیداد کی قیمت وغیرہ لکھا دیں۔اس پر ہر طرف سے ناموں کی آواز آنے لگی اور کارکنوں نے نام لکھنے شروع کئے۔اس سلسلہ کے ختم ہونے پر حضور نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب آپ لوگوں کا کام ہے کہ جماعتوں میں جا کر دوسرے لوگوں کو بھی اس کارخیر میں شریک کریں۔ہم اس بات سے خوش نہیں ہو سکتے کہ ہم میں سے اتنے لوگوں نے حصہ لیا۔بلکہ ہمیں سبھی خوشی ہو سکتی ہے کہ جب جماعت کے ہر فرد نے اس میں شرکت کی ہواور کوئی بھی اس سے باہر نہ رہا ہو یہی زندہ جماعتوں کی علامت ہے اس ضمن میں فرمایا اس وقت میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ وقف جائیداد والے دوست اپنی جائیداد کی کل قیمت کا ایک فیصدی چھ ماہ کے اندراندر مرکز میں جمع کرا دیں اور وہ جنہوں نے ایک ماہ یا دو ماہ کی آمد وقف کی ہوئی ہے وہ ایک ماہ کی آمد بھیجد ہیں۔اور جن لوگوں نے وقف نہیں کی وہ بھی اس چندہ میں حصہ ضرور لیں۔وہ اپنی کل جائیداد کی قیمت کا2/ 1 فیصدی اور اپنی ایک ماہ کی آمد کا نصف چھ ماہ کے اندراندر یہاں بھیجد میں“۔بالآخر حضور نے نہایت پر جوش کلمات میں نمائندگان کو خطاب کرتے ہوئے فرما یا :۔پس جاؤ اور کوئی فرد باقی نہ رہنے دو جو اپنی جائیداد یا آمد وقف نہ کرلے اور وہ لوگ جو انکار کریں ان سے کہہ دو کہ ہم تمہارے حرام مال سے اپنے پاکیزہ مال کو ملوث نہیں کرنا چاہتے۔تیسری تجویز یہ ہے کہ وصیتوں کی تحریک کی جائے اور جماعت کا کوئی فرد نہ رہے جس نے وصیت نہ کی ہو۔وصیت بے شک