تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 20 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 20

تاریخ احمدیت بھارت 19 جلد اول آنحضرت سی ایم نے صحابہ کو قربانیوں کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔مگر انہوں نے تعمیل ارشاد میں تھوڑی تاخیر کردی تو جب آنحضرت مسلم سلیم نے خود اپنے جانور کی قربانی کر دی تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔اور وہ جلدی سے جانور ذبح کرنے لگے۔بعینہ اس موقعہ پر افراد جماعت نے حضور کی توقعات کے مطابق حفاظت مرکز کے لئے پہلی مرتبہ قربانیاں پیش نہیں کیں۔مگر جب حضور نے نصائح کیں اور ان نصائح کے بعد انہیں جو احساس ہوا ان کے جذبات ندامت کی ترجمانی کرتے ہوئے شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت لاہور نے فرمایا:۔پیارے آقا! یہ درست ہے کہ ہم نے حفاظت مرکز کی اہمیت کو نہیں سمجھا اور اس طرف توجہ نہیں کی۔اس کی وجہ یہ تھی اول تو ہمیں صحیح طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔دوسرے ہمیں وہ بصیرت اور پیش بینی حاصل نہیں جوحضور کو حاصل ہے۔حضور نے بیشک ہمیں قبل از وقت خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔مگر ہم سے کوتاہی ہوئی کہ ہم نے اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا اور غفلت سے بیدار نہ ہوئے۔اب جبکہ خطرہ ہماری آنکھوں کے سامنے آگیا ہے۔تباہیوں اور خونریزی کا ہولناک منظر ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزر چکا ہے تو آج ہماری حالت وہ نہیں ہے جو پہلے تھی۔آج ہم محسوس کر چکے ہیں کہ ہم اور ہمارے عزیزوں کی جانیں اور ہماری مقدس ومحبوب ترین چیزیں خطرہ میں ہیں۔ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ قربانی کا وقت آن پہنچا ہے اور اپنی زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے اپنے مال و دولت کو شمار کرنے کی گھڑی آ پہنچی ہے ہم سے جو غفلت اور کوتاہی ہوئی اس کے لئے معذرت خواہ ہیں۔اور آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آئندہ ہم آپ کے ادنی اشارے پر اپنا سب کچھ لٹا دینے کیلئے تیار ہیں اور انشاء اللہ آئندہ کبھی شکایت کا موقعہ پیدا نہ ہونے دیں گے۔موجودہ وقت ہم سے تقاضہ کرتا ہے کہ ہم اپنی ساری آمد نہیں اور جائداد میں حضور کے قبضہ میں دیدیں اور حضور ہمیں معمولی سا گزارہ دیکر باقی رقوم کو جہاں چاہیں خرچ کر دیں ہمیں کوئی عذر نہ ہوگا“۔(10) جماعت کی طرف سے اس اظہار ندامت پر حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا :۔اگر یہ سلسلہ انسانی ہاتھوں کا بنایا ہوتا تو میں یہ سمجھتا کہ جماعت کی اس معاملہ میں عدم توجہی حقیقی کمزوری ایمان کے نتیجہ میں ہے۔لیکن جبکہ یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے اور وہ خود اس کا محافظ ہے تو میں یہ نہیں خیال کر سکتا کہ موجودہ ستی حقیقی غفلت کے نتیجہ میں ہوئی ہے جیسا کہ آپ میں سے اکثر نے اپنی عدم توجہی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے احساس ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے، میرا مقصد بھی یہی تھا کہ اس نازک