تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 19
جلد اوّل 18 تاریخ احمدیت بھارت مسلمانوں کی وہ تیاری نہیں ہے اور نہ ہی وہ قربانی کا جذبہ ان میں پایا جاتا ہے جو ایک زندہ رہنے والی قوم میں ہونا چاہیئے۔عام مسلمانوں کو جانے دو ابھی آپ لوگوں میں بھی وہ بیداری پیدا نہیں ہوئی جو مومن کے شایان شان ہے۔مومن اپنے کاموں میں بہت محتاط ہوتا ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں بھی اپنے ہزاروں روپے صرف کرنے سے دریغ نہیں کرتا مگر نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اس ضمن میں ایمان کا مظاہرہ نہیں کیا اور مرکز احمدیت کی حفاظت کے لئے جس رقم کا جماعت سے مطالبہ کیا گیا تھا اس میں جماعت نے بہت کم حصہ لیا ہے بلکہ اکثروں نے تو بالکل اس کی اہمیت کو ہی نہیں سمجھا۔اگر ایک شخص کو کوئی مقدمہ آپڑے تو وہ ہزاروں روپیہ خرچ کر دیتا ہے۔بیماری گھر میں آجائے توسینکڑوں صرف ہو جاتے ہیں مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ تم اپنی حفاظت کیلئے اور اپنے عزیزوں کے لئے تو ہزاروں روپے صرف کردو لیکن دین کی حفاظت کے لئے چند سوبھی قربان نہ کر سکو۔(8) حفاظت مرکز کے لئے دولاکھ روپے چندہ کی تحریک حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ہجرت سے تقریباً ساڑھے 5ماہ قبل مورخہ 15اپریل 1947ء کو مجلس مشاورت کے اجلاس میں جو بعد نماز مغرب وعشاء منعقد ہوا دولاکھ روپیہ حفاظت مرکز کے لئے جمع کرنے کی تحریک فرمائی۔اس بارے میں حضور نے فرمایا: حفاظت مرکز کے لئے جماعت سے دولاکھ کی رقم کا مطالبہ کیا گیا تھا۔مگر اس وقت تک صرف 36 ہزار کے قریب رقم جمع ہوئی ہے۔میں حیران ہوں کہ موجودہ ہولناک تباہیوں اور خونریزیوں کے دیکھتے ہوئے جماعت نے کس طرح اتنی رقم پر اکتفا کیا۔کیا کوئی عقلمند یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ یہ حقیر رقم شعائر اللہ کی حفاظت کے لئے کافی ہے۔اور ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔اس سے سینکڑوں گنا زیادہ تو تم سال بھر میں اپنے بیماروں پر خرچ کر دیتے ہو۔کیا شعائر اللہ کو اتنی اہمیت بھی حاصل نہیں؟ اب آپ مجھے بتائیں کہ بقیہ رقم کس طرح پوری ہو سکتی ہے؟ (9) دو تاریخ اسلام میں صلح حدیبیہ کے واقعات میں ذکر آتا ہے کہ جب ” معاہدہ صلح“ طے پا گیا تو