تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 382 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 382

تاریخ احمدیت بھارت 351 جلد اول 7 مکرم الحاج میر کلیم اللہ صاحب شموگہ 8 مکرم بی عبد الرحیم صاحب بنگلور مکرم سید محی الدین صاحب ایڈوکیٹ رانچی 10 مکرم مرز اشیر علی صاحب اڑیسہ 500 500 500 500 علاوہ چاردیواری کے اللہ تعالیٰ کے فضل سے زمانہ درویشی میں جنازہ گاہ جہاں حضرت اقدس علیہ السلام کا جنازہ پڑھا گیا۔اور مقام بیعت خلافت اولیٰ کی تعیین حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے ذریعہ کروا کر اس کی صفائی و درستی بھی کروادی گئی۔اور باغ بہشتی مقبرہ میں جو شاہ نشین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بنوائی تھی اور غیر مستقف تھی اس کو بھی مسقف کر دیا گیا ہے۔فالحمد للہ علیٰ ذلک۔“(41) محلہ احمدیہ کے راستوں میں تبدیلی تقسیم ملک سے قبل قادیان میں بسنے والوں کی اکثریت احمدی احباب پر مشتمل تھی۔اور ہر ایک دوسرے کو جانتا اور پہچانتا تھا حتی کہ جو ہندو سکھ اور عیسائی ہمسایہ بھی قادیان میں مقیم تھے وہ بھی ایک دوسرے کو جانتے اور پہچانتے تھے۔مقامی آبادی میں سے کسی کو کسی سے کوئی خطرہ نہ تھا۔اس لئے دار امسیح اور محلہ احمدیہ کی گلیاں اور کوچے اور راستے ہر ایک کے لئے کھلے ہوئے تھے۔کسی کے کسی وقت گزرنے پر کوئی پابندی اور قدغن نہ تھی۔لیکن تقسیم ملک کے بعد حالات یکسر بدل گئے قادیان کے اکثر محلہ جات میں انجان لوگوں کو ٹھہرا دیا گیا۔جنکی آپس میں نہ تو جان پہچان تھی ، نہ چہروں سے شناسائی تھی۔ایسے غیر یقینی حالات میں شرپسند عناصر اور لٹیرے، چور، اوباش، ڈا کو فتنے برپا کرتے اور گھروں میں گھس کر مترو کہ مال و اسباب لوٹتے۔اگر کوئی مزاحمت کرتا تو اسے قتل کر دیتے تھے۔اس قسم کے جرائم پیشہ لوگ محلہ احمد یہ اور دار اسیح میں بھی زبر دستی یا پھر رات کے اندھیروں میں خفیہ طور پر داخل ہونے کی کوشش کرتے۔مگر درویشان کرام کی چوکسی اور بیداری ان کے مجرمانہ جرائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں سد راہ ثابت ہوتی۔جماعت احمدیہ کی اس وقت کی انتظامیہ نے ان جرائم کے مرتکبین کے بارے میں حکومت کے