تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 381
جلد اوّل 350 تاریخ احمدیت بھارت کنارے وہیں پہنچ گئی ہے۔یہی وہ چار دیواری بہشتی مقبرہ ہے جو جماعت کے مخلص و مخیر احباب کے ایثارو تعاون کی ایک یادگار ہے۔“ (39) مکرم فیض احمد صاحب گجراتی مزید تحریر کرتے ہیں:۔اس عظیم الشان دیوار میں جہاں بیرونجات کے مخلص احباب نے گراں قدر عطیات دیئے ہیں وہاں ہمارے بعض درویشوں نے بھی ایک ایک سو روپیہ چندہ دیا ہے۔اور ہمارے مرحوم درویش بھائی میاں خدا بخش صاحب قلی نے تو اس میں 1387 روپے کا عطیہ دیکر درویشوں کی لاج رکھ لی۔جزاهم الله جميعاً احسن الجزاء۔چاردیواری بہشتی مقبرہ کی تعمیر کے سلسلہ میں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ موجودہ پختہ دیوار کی تعمیر سے قبل بہشتی مقبرہ کے ارد گرد ایک دیو ہیکل خام دیوار مٹی کی بنائی گئی تھی۔جسے ہمارے درویش بھائیوں نے اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا تھا۔اور حقیقتا یہ درویشوں کا ایک بہت بڑا کارنامہ تھا۔اور وہ منظر بڑا دل افروز ہوتا تھا جب درویش اپنے سروں پر مٹی ڈھو کر دیوار کی تعمیر کر رہے ہوتے تھے۔اور اس یادگاری وقار عمل میں حصہ لیتے تھے۔اور یہ مظاہرہ ہوتا تھا اس امر کا کہ ہم بے سروسامان ہوتے ہوئے بھی خود سر و سامان ہیں۔عشق هر جا می رود ما را به سامان می برد (40) اس کچی چاردیواری کی جگہ بعد میں پختہ چاردیواری بنادی گئی۔جن احباب نے چار دیواری کی تعمیر کے لئے خاص طور پر مالی اعانت فرمائی ہے ان کے اسماء ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔نمبر شمار 1 4 اسماء مکرم سیٹھ معین الدین صاحب امیر جماعت احمدیہ حیدر آباد مکرم صدیق امیر علی صاحب موگرال مالا بار مکرم بابا خدا بخش صاحب در ویش قادیان مرحوم سابق قلی مکرم سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی کلکتہ 5 مکرم سیٹھ محمد بشیر صاحب سہگل کلکتہ 6 مکرم سیٹھ محمد عمر صاحب سہگل کلکتہ رقم 2507 1600 1387 1500 500 500