تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 383 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 383

جلداول 352 تاریخ احمدیت بھارت اعلیٰ ذمہ داران اور فرض شناس احباب کو توجہ دلاتے ہوئے محلہ احمد یہ اور دار اسیح کے خاص کو چوں کو بند کر کے متبادل راستے بنانے کی اجازت چاہی حکومت کے متعلقہ افسران محلہ احمدیہ میں آئے اور جماعت کی تجویز کردہ گلیوں کو موقعہ پر جا کر دیکھا اور ان راستوں کا بھی جائزہ لیا جو نئے بنائے جانے والے تھے اور مناسب سمجھتے ہوئے بعض گلیوں کو بند کر کے متبادل راستہ بنانے کی اجازت دے دی ( یہ غالباً 1947ء کے آخر کی بات ہے )۔چنانچہ مسجد مبارک کے مشرقی جانب جہاں اس وقت بہت بڑا آہنی گیٹ نظر آتا ہے یہ اسی فیصلے کے بعد ہی لگایا گیا تھا۔تا کہ دار مسیح شر پسند عناصر کے فتنوں سے محفوظ رہے نیز مسجد اقصی کے مشرق میں شمال کی طرف جانے والی گلی کو دروازہ لگا کر مقفل کر دیا گیا۔حالانکہ تقسیم ملک سے قبل بھی یہ عام گزرگاہ نہ تھی بلکہ خاندان حضرت مسیح موعود اور جماعت احمدیہ کی ملکیت تھی۔مگر اس کے باوجود جماعت احمدیہ نے اس گلی اور اس کے ساتھ ملحقہ تھوڑی سی زمین کی قیمت بلد یہ کوادا کی۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی " کا مکان حالیہ احمد یہ چوک سے دارالانوار جاتے ہوئے بائیں جانب آتا ہے۔جہاں پر ایک نمایاں لکڑی کادروازہ لگا ہوا ہےاس دروازے کے جنوب کی طرف ایک گلی جاتی تھی۔یہ گلی حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے مکانات کی مشرقی جانب سے مدرسہ احمدیہ کی طرف جاتی تھی۔اُسے بھی دروازہ لگا کر بند کر دیا گیا۔اس کے علاوہ دار الشیوخ والی گلی جہاں آجکل 2016ء میں عبد الحمید صاحب مومن درویش مرحوم کا گھر ہے۔اسے بھی بند کر دیا گیا۔اس کے متبادل محلہ احمدیہ سے ناصر آباد بہشتی مقبرہ جاتے ہوئے جو پل آتا ہے وہاں سے لے کر مغرب کی طرف (اس مکان تک جہاں آجکل 2016ء میں چوہدری عبد السلام درویش مرحوم کے اہل و عیال رہائش پذیر ہیں ) ڈھاب میں مٹی ڈال ڈال کر ایک خام سڑک بنادی گئی تا کہ منگل اور دوسرے دیہات سے آنے والوں کو زیادہ مسافت طے کر کے محلہ احمدیہ سے گزر کر مسجد اقصیٰ کے شمالی جانب والے بازار میں خرید و فروخت کے لئے نہ جانا پڑے۔بلکہ اس مختصر راستے سے وہ آمد و رفت کر سکیں۔درویشان کرام نے تقریباً تین سوفٹ لمبا اور 11 فٹ چوڑا راستہ تقریباً دس فٹ گہرا، ڈھاب میں مٹی ڈال کر بنایا تھا۔مٹی اس جگہ سے اکھیڑی جاتی (جہاں آج کل 2016ء میں سرائے وسیم اور مجلس انصار اللہ بھارت کا دفتر ہے ) غالباً 1955ء میں بارشوں کی وجہ سے اس سڑک کو نقصان پہنچا تھا اس وقت اس راستے کو مزید چوڑا اور وسیع کیا گیا۔درویشان بڑی مشقت سے صبح