تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 4
جلد اوّل تاریخ احمدیت بھارت اس طرح ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کا آغاز ہوا۔بابر کا دور حکومت اس کی وفات کے ساتھ مورخہ 6 جمادی الاولیٰ 937ھ۔26 دسمبر 1530ء کو ختم ہوا۔(5) جیسا کہ تحریر کیا جا چکا ہے کہ بابر نے سمرقند پر تین بار قبضہ کیا۔مگر وہ قبضہ برقرار نہ رہ سکا۔آخر اس نے ہندوستان کا رُخ کیا۔چنانچہ بابر کے دور حکومت میں ہی سید نا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی (علیہ السلام) کے اجداد میں ایک بزرگ مرزا ہادی بیگ صاحب سمرقند سے قریباً دوسو آدمیوں کے ساتھ ہندوستان پہنچے چنانچہ تذکرہ رؤساء پنجاب (Punjab (Chief ( جسے سر لیپل گریفن نے تالیف کرنا شروع کیا اور مسٹر میسی اور مسٹر کریک نے پائے تکمیل تک پہنچایا ) میں ذکر آتا ہے کہ :۔شہنشاہ بابر کے عہد حکومت کے آخری سال یعنی 1530ء میں ایک مغل بادی بیگ باشندہ سمرقند اپنے وطن کو چھوڑ کر پنجاب میں آیا اور ضلع گورداسپور میں بود و باش اختیار کی۔“ (6) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جد امجد مرزا ہادی بیگ صاحب پنجاب میں اس جگہ آباد ہوئے جہاں آج کل قادیان آباد ہے۔لیکن ابتداء میں انہوں نے اس کا نام اسلام پور رکھا تھا۔چنانچہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آمد کے تعلق سے تحریر فرماتے ہیں:۔واضح ہو کہ ان کا غذات اور پرانی تحریرات سے کہ جوا کا بر اس خاندان کے چھوڑ گئے ہیں ثابت ہوتا ہے کہ بابر بادشاہ کے وقت میں کہ جو چغتائی سلطنت کا مورث اعلیٰ تھا بزرگ اجداد اس نیاز مند الہی کے خاص سمرقند سے ایک جماعت کثیر کے ساتھ کسی سبب سے جو بیان نہیں کیا گیا ہجرت اختیار کر کے دہلی میں پہنچے اور دراصل یہ بات ان کا غذات سے اچھی طرح واضح نہیں ہوتی کہ کیا وہ بابر کے ساتھ ہی ہندوستان میں داخل ہوئے تھے یا بعد اس کے بلا توقف اس ملک میں پہنچ گئے لیکن یہ امر ا کثر کا غذات کے دیکھنے سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ گو وہ ساتھ پہنچے ہوں یا کچھ دن پیچھے سے آئے ہوں مگر انہیں شاہی خاندان سے کچھ ایسا خاص تعلق تھا جس کی وجہ سے وہ اس گورنمنٹ کی نظر میں معزز سرداروں میں سے شمار کئے گئے تھے چنانچہ بادشاہ وقت سے پنجاب میں بہت سے دیہات بطور جاگیر کے انہیں ملے اور ایک بڑی زمینداری کے وہ تعلق دار ٹھہرائے گئے اور ان دیہات کے وسط میں ایک میدان میں انہوں نے قلعہ کے طور پر ایک قصبہ اپنی سکونت کے لئے آباد کیا جس کا نام اسلام پور قاضی ما جبھی رکھا یہی اسلام پور ہے جواب قادیان کے نام سے