تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 5
تاریخ احمدیت بھارت جلد اول مشہور ہے۔اس قصبہ کے گردا گرد ایک فصیل تھی جس کی بلندی 20 فٹ کے قریب ہوگی اور عرض اس قدر تھا کہ تین چھکڑے ایک دوسرے کے برابر اس پر چل سکتے تھے، چار بڑے بڑے برج تھے۔جن میں قریب ایک ہزار کے سوار و پیادہ فوج رہتی تھی اور اس جگہ کا نام جو اسلام پور قاضی ماجھی تھا تو اس کی یہ وجہ تھی کہ ابتداء میں شاہان دہلی کی طرف سے اس تمام علاقہ کی حکومت ہمارے بزرگوں کو دی گئی تھی اور منصب قضا یعنی رعایا کے مقدمات کا تصفیہ کرنا انکے سپر دتھا اور یہ طرز حکومت اس وقت تک قائم و برقرار رہی کہ جس وقت تک پنجاب کا ملک دہلی کے تخت کا خراج گزار رہا لیکن بعد اس کے رفتہ رفتہ چغتائی گورنمنٹ میں باعث کا ہلی وستی و عیش پسندی و نالیاقتی تخت نشینوں کے بہت سافتور آگیا اور کئی ملک ہاتھ سے نکل گئے انہیں دنوں میں اکثر حصہ پنجاب کا گورنمنٹ چغتائی سے منقطع ہو کر یہ ملک ایک ایسی بیوہ عورت کی طرح ہو گیا جس کے سر پر کوئی سر پرست نہ ہو اور خدائے تعالیٰ کے اعجوبہ قدرت نے سکھوں کی قوم کو جو دہقان بے تمیز بھی ترقی دینا چاہا چنانچہ ان کی ترقی اور تنزل کے دونوں زمانے پچاس برس کے اندر اندر ختم ہو کر ان کا قصہ بھی خواب خیال کی طرح ہو گیا۔غرض اس زمانہ میں کہ جب چغتا ئی سلطنت نے اپنی نالیاقتی اور اپنی بدانتظامی سے پنجاب کے اس حصہ سے بکلی دست برداری اختیار کی تو ان دنوں میں بڑے بڑے زمیندار اس نواح کے خود مختار بن کر اپنے اقتدار کامل کا نقشہ جمانے لگے۔سو انہیں ایام میں بفضل و احسان الہی اس عاجز کے پڑدادا صاحب مرزا گل محمد مرحوم اپنے تعلقہ زمینداری کے ایک مستقل رئیس اور طوائف الملوک میں سے بن کر ایک چھوٹے سے علاقہ جوصرف چوراسی (84) یا پچاسی (85) گاؤں رہ گئے تھے کامل اقتدار کے ساتھ فرماں روا ہو گئے اور اپنی مستقل ریاست کا پورا پورا انتظام کر لیا اور دشمنوں کے حملے روکنے کے لئے کافی فوج اپنے پاس رکھ لی اور تمام زندگی ان کی ایسی حالت میں گزری کہ کسی دوسرے بادشاہ کے ماتحت نہیں تھے اور نہ کسی کے خراج گزار۔بلکہ اپنی ریاست میں خود مختار حاکم تھے اور قریب ایک ہزار سوار و پیادہ ان کی فوج تھی اور تین تو ہیں بھی تھیں اور تین چار سو آدمی عمدہ عمدہ عقلمندوں اور علماء میں سے ان کے مصاحب تھے اور پانچ سو (500) کے قریب قرآن شریف کے حافظ وظیفہ خوار تھے جو اس جگہ قادیان میں رہا کرتے تھے اور تمام مسلمانوں کو سخت تقید سے صوم و صلوۃ کی پابندی اور دین اسلام کے احکام پر چلنے کی تاکید تھی اور منکرات شرعی کو اپنی حدود میں رائج ہونے نہیں دیتے تھے اور اگر کوئی مسلمان ہو کر خلاف شعار اسلام کوئی لباس یا وضع رکھتا تھا تو وہ سخت