تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 3
تاریخ احمدیت بھارت جلد اول مزید برآں مخبر صادق سید نا حضرت محمد مصطفی سالی یا یہ تم نے امت محمدیہ میں آنے والے مسیح موعود کو سیح ابن مریم کے صفاتی نام سے موسوم فرما کر یہ پیشگوئی بھی فرما دی کہ جس طرح شریعت موسویہ کے بانی حضرت موسی کے بعد چودھویں صدی میں مسیح ابن مریم کی بعثت ہوئی تھی (ملاحظہ ہو انسائیکلو پیڈیا آف برٹینکا زیر لفظ Moses) بعینہ شریعت محمدیہ کے بانی حضرت محمد مصطفے سلیم کے بعد چودھویں صدی ہجری کے شروع میں اللہ تعالی مثیل مسیح ابن مریم مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو مبعوث فرمائے گا۔خلاصہ کلام یہ کہ سید نا حضرت محمد مصطفے ستم کی پیشگوئیوں کے مطابق امت محمدیہ میں آنے والے مسیح موعود و مہدی معہود (علیہ السلام) کا ابناء فارس میں سے ہونا یقینی تھا۔اور اس کا ظہور ہندوستان میں ہونا بھی مقدر تھا۔پیشگوئیوں کے مطابق مسیح موعود و امام مہدی کے ظہور کا وقت جوں جوں قریب آتا چلا جا رہا تھا۔اللہ تعالیٰ ہر وہ راہ ہموار کرتا چلا جارہا تھا جس کی ضرورت تھی یہ تمام وعدے کیسے پورے ہوئے اس کی مختصر تفصیل کچھ اس طرح ہے۔ہر وہ انسان جو ہندوستان اور افغانستان کے حکمرانوں اور بادشاہوں کی تاریخ کا مطالعہ کرے گا۔وہ ہندوستان میں مغلیہ بادشاہت کے بانی ظہیر الدین بابر کے اہم کردار کو فراموش نہ کر سکے گا۔ہندوستان پر اس کی حکومت 1526ء سے 1530 ء تک رہی۔اس کے والد کا نام عمر شیخ تھا جو کہ وسط ایشیا میں فرغانہ کی چھوٹی سی ریاست کا حکمران تھا۔وہ 6 محرم 888ھ (14 فروری 1483ء) کو پیدا ہوا۔رمضان المبارک 899ھ جون 1449ء میں بطور میرزاے فرغانہ اپنے والد کا جانشین ہوا۔905-1499ء میں بابر سمرقند“ شہر پر اچانک حملہ کرنا چاہتا تھا مگر شیبانی خان اور بک نے سبقت کر کے شہر پر قبضہ کرلیا مگر آئندہ سال بابر نے شہر پر اچانک ہلہ بول دیا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔بابر نے تین بار سمرقند پر حملہ کیا، لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس کے دشمن غالب آجاتے اور قبضہ برقرار نہ رہتا۔دہلی میں اس وقت ابراہیم لودھی کی حکومت تھی۔اس کے چا عالم خان اور لاہور کے دولت خان لودھی نے بابر کو ہندوستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔چنانچہ بابر 932ھ اپریل 1526ء میں پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کی فوج کا قلع قمع کر کے دہلی اور آگرہ پر قبضہ کر لیا۔