تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 2 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 2

جلد اوّل 2 تاریخ احمدیت بھارت سفید منارہ کے پاس نزول فرمائے گا۔(ج) عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ خَلِيلِي يَقُولُ لَا يَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ عَصَابَتَيْنِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا النَّارَ عَصَابَةُ تَغْرُ والهِندَ وَ هِيَ تَكُونُ مَعَ الْمَهْدِى اِسْمُهُ أَحْمَدُ (3) یعنی حضرت انس نے فرمایا میں نے اپنے خلیل رسول اللہ سے سنا کہ قیامت اس وقت تک بر پا نہیں ہوگی جب تک اللہ تعالیٰ دو جماعتوں کو نہ بھیجے۔اللہ تعالی نے ان دونوں پر دوزخ حرام کر دی ہے۔ان میں سے ایک جماعت جو ہندوستان میں (روحانی و دینی ) جہاد کرے گی اور وہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ ہوگی جن کا نام احمد ہوگا۔(د)۔يَخْرُجُ الْمَهْدِئُ مِنْ قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا كَدَعَهَ (4) مہدی کا ظہور ایسی بستی سے ہوگا جسے ”کدعہ کہا جائے گا۔علاوہ ازیں دسویں صدی ہجری کے ایک بزرگ نے رسالہ ” تلخیص البیان فی علامات مہدی آخر الزمان میں لکھا ہے کہ " يَبْعَثُ جَيْساً مِنَ الْهِنْدِ کہ حضرت مہدی ہندوستان سے لشکر بھیجیں گے۔یہ رسالہ در اصل حضرت علامہ جلال الدین سیوطی (متوفی 911ھ ) حضرت یوسف بن سکی المقدی (متوفی 685ھ ) اور حضرت ابن حجر الیشمی (متوفی 974ھ) کے رسائل کا خلاصہ ہے جس کا ایک قدیم قلمی نسخہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے نادر مخطوطات میں محفوظ ہے۔ان احادیث کے مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مخبر صادق سید نا حضرت محمد مصطفے سلیم نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کا ظہور ایک فارسی خاندان سے ہوگا اور ان کا ظہور غیر عربی علاقے ہندوستان میں ہوگا۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے 1891ء میں مسیح موعود و مہدی معہود ہونے کا اعلان فرما یا تب یہ عقدہ کھلا کہ اللہ تعالی نے کس طرح سیدنا حضرت محمد مصطفے صلی ایتم ک زبان مبارک سے نکلے ہوئے کلمات کو سچ کر دکھایا ورنہ عقل اس عقدہ کو حل کرنے سے قاصر تھی کہ آنے والا مسیح موعود و مہدی معہود فارسی الاصل ہو اور پھر ہندوستان میں اس کا ظہور کس طرح ممکن ہوگا۔