تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 120 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 120

جلد اوّل 104 تاریخ احمدیت بھارت اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی۔27 /ماه اکتوبر اس دن قادیان کے ماحول سے متواتر اطلاعات موصول ہوئیں کہ۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) وغیرہ حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یہ بھی خبر پہنچی ہے کہ بٹالہ اور امرتسر کے غیر مسلم یہ سازش کر رہے ہیں کہ قادیان سے آنے والے کنوائے پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا جائے۔28 / ماه اکتوبر اطلاع ملی کہ۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) کافی تعداد میں آریہ ( موجودہ D۔A۔V اسکول) سکول میں اکٹھے ہورہے ہیں۔شاید حملہ کریں۔مگر کچھ دیر بعد یہ لوگ منتشر ہو گئے۔31 / ماه اکتوبر صبح گیارہ بجے کنوائے تقریباً چار سوا چار سو آدمی کو لے کر روانہ ہو گیا۔جماعت کا ریکارڈ اور کتب وغیرہ کے چڑھانے میں دقت پیدا ہوگئی تھی۔مجسٹریٹ صاحب علاقہ (مسٹر سوہنی ) نے انکار کر دیا کہ سامان کوئی نہیں چڑھنے دوں گا۔آخر مرزا عبد الحق صاحب اور کنوائے کے ساتھ آنے والے کیپٹن گلزار صاحب کی کوشش سے مجسٹریٹ صاحب مان گئے اور بمشکل یہ جماعتی سامان جاسکا۔مجسٹریٹ صاحب نے بعض لوگوں کے سامان کی تلاشی بھی لی۔مگر پھر کیپٹن گلزار (صاحب) نے کہا۔آپ تلاشی نہیں لے سکتے کیونکہ دونوں حکومتوں کا معاہدہ ہے کہ تلاشی نہیں ہوگی اگر آپ تلاشی لینا چاہتے ہیں تو لکھ کر دے دیں۔اس پر مجسٹریٹ صاحب نے تلاشی کا ارادہ ترک کر دیا۔2 / ماہ نومبر شام پانچ بجے تین احمدی نوجوان دارالا نوار کی سڑک پر سیر کرنے گئے تھے۔کہ وہاں فوج کے ایک سپاہی نے ان کو مشتبہ قرار دیکر پکڑ لیا۔اور بُری طرح لاٹھیوں سے زدوکوب کیا۔آخر مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ اور فضل الہی صاحب پولیس چوکی گئے۔۔۔۔اور کچھ دیر بعد ان تینوں نوجوانوں کو لے آئے۔