تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 121
تاریخ احمدیت بھارت 3 / ماہ نومبر 105 جلد اوّل قبل ازیں مجسٹریٹ صاحب نے مولوی جلال الدین صاحب شمس کو گرفتار کرنے کی دھمکی دی تھی مگر اس روز مقامی فون کے اپریٹر نے چوہدری ظہور احمد صاحب کو بتایا کہ گزشتہ رات ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کا فون مجسٹریٹ صاحب قادیان کو آیا تھا کہ کسی کو گرفتار وغیرہ بالکل نہیں کرنا۔یہ سن کر احمد یوں کو بہت خوشی ہوئی کہ اب مجسٹریٹ صاحب شمس صاحب پر ہاتھ نہیں ڈال سکیں گے۔4/ ماہِ نومبر لا ہور سے بذریعہ فون یہ اطلاع ملی کہ مرزا مظفر احمد صاحب نے ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کو فون کیا اور مجسٹریٹ صاحب کی دھمکی کی نسبت بات ہوئی۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا کہ شمس صاحب کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ور ماه نومبر ساڑھے آٹھ بجے شب کے قریب ایک کنوائے قادیان آیا جس میں مرز اظفر احمد صاحب اور مرزا اخلیل احمد صاحب بھی تھے۔10 / ماہِ نومبر لمصل تقریباً ایک بج کر بیس منٹ پر قادیان کی چوکی پولیس کے انچارج صاحب اور مجسٹریٹ صاحب (امولک سنگھ ) اور بعض سپاہیوں کے ہمراہ الدار میں آئے اور حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے اور حضرت خلیفہ امسیح الثانی المصلح الموعود کے مکان کی درمیانی پرائیویٹ گلی میں مٹی کے ان ڈھیروں کو الٹ پلٹ کے دیکھنا شروع کر دیا جو فسادات شروع ہونے سے پہلے آگ بجھانے کے لئے رکھے ہوئے تھے۔پولیس کے سپاہی پندرہ بیس منٹ تک یہ کام کرتے رہے۔پتہ چلا کہ مجسٹریٹ صاحب کو الیں۔پی پھل کا سنگھ صاحب نے بھجوایا ہے کہ جا کر ان ڈھیروں کے نیچے سے ناجائز اسلحہ برآمد کریں۔آخر جب کچھ نہ نکلا تو یہ لوگ واپس چلے گئے۔