تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 88
AA کے مطابق ان مقاصد کے حصول کے لیے سی کرنے اور اس نیت ہائے احکام بیان گئے تم پر جاری ہو نہیں ہوں وہ اس طوں کی ہوں گی اور ان عیت اور ہرقسم کی ہونگی کہان کے متعلق اتمام نعمت کا نقرہ بولا جا سکے گا۔اور لاتم نعمنِى عَلَيْكُمْ کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا (آیت ۵۲ میں) کہ ایک رسول تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، جو پاکیزگی کی تعلیم میں دیتا ہے۔چونکہ طبعا سوال پیدا ہوتا تھا کہ کے خدا امقاصد کا تو میں پتہ مل گیا اگر ہماری کوششوں کی راہوں کی ابھی تمہیں نہیں کی گئی، اگر نیمین ہو جاتی تو ہمارے لیے شہوات ہوتی۔اس لیے دوسری آیت میں بتا دیا کہ جو رات میں میرا یار محمد واله صلی اللہ علیہ وسلم تبائے رہی وہ راہ ہے جو پاکیزگی کی طرف لے جاتی ہے اور جس راہ پر چل کر تم مقاصد تعمیر بیت اللہ کوحاصل کر سکتے ہو، فرمایا کہ يَتْلُوا عَلَيْكُمُ التِنَا وَيُزيكُمُ کہ تمھارے تزکیہ کے سامان اس رسول کے ذریعہ سے ہم نے دیا کر دئے ہیں۔اس لیے کہ وہ آیات پڑھ کرساتا ہے۔کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور اس کی مکتیں بیان کرتا ہے۔پس قرا میں جو غرض بیان کی گئی تھی اور جس کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا تھا ، اس کو پورا کرنے والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں خود قرآن کریم نے یہ دعوی کیا ہے کہ آپ اس فرض کو پورا کرنے والے ہیں، کیونکہ یہاں مسجد حرام، مقاصد کا سامنے رکھنا ، اتمام نعمت اور تزکیہ نفوس اور اس ک طریق یہ تمام باتیں ان دو آیتوں میں کبھی کردی گئی ہیں۔سور البقرہ کی ان آیات میں عام پاکیزگی کا ذکر ہے لیکن زیادہ زور روحانی اور دینی پاکیزگی پر ہے سورۂ مائدہ کی ی سات میں لالہ لایا ہوتا ہے اگر تم بھی ہو تنہا یا کرو اس میں تعلیم دی کہ اسلام میں بموں کو ایک اور صاف رکھنا بھی ضروری ہے۔اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی وضاحت او تفصیل کے ساتھ جسم کی صفائی اور کپڑوں کی صفائی کی اور گھر کی صفائی اور ماحول کی صفائی اور مساجد کی صفائی اور ان کی پاکیزگی اور طہارت کا خیال رکھنا اور زبان کی صفائی اور سان ی صفائی اور آنکھ کی صفائی اور ناک کی صفائی کے بارے میں تعلیم بیان کی ہے اس تعلیم کی تفصیل میں ہی اس وقت نہ جانا چاہا ہوں اور نہ میرے لیے اس کی تفصیل میں جانا ممکن ہے۔ہر حال قرآن کریم پر غور کرنے سے ہم اس نتیج پر پہنتے ہیں جس سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کرتا کہ قرآنی شرعیت میں تبتن زور ظاہری اور باطنی صفائی اور پاکیزگی پر یا گیا ہے۔اس کا سواں حصہ ، شاید ہزارواں حقہ بھی پہلے کسی مذہب نے ان باتوں پر زور نہیں دیا۔تو جو مقصد طبقرا کے اندر بیان ہوا تھا اس کو