تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 89
پورا کرنے کے لیےنبی کرم صلی الہ علیہ وسلم کومبعوث کیا گیا اور آپ نے اس مقصد کا حصول امت مسلمہ کے لیے مکن بنا دیا۔کیونکہ صفائی کی ہر شاہراہ کی طرف میں ہدایت دی۔اور تعلیم و صفائی سے تعلق رکھنے والی اور پاکیزگی او بصارت سے تعلق رکھنے وال تھی کھول کر ہمارے سامنے بیان کر دی اور ان ہدایات پرعمل کرنے کی راہیں ہم پر آسان کردیں۔اس سے پہلے کسی نبی نے ان میدانوں میں تنظیم کام نہیں کیا ہیں مقصد ہے پاکیزگی اور طہارت اور اس کے حصول کا ذریعہ بنے ہی محمدرسول الله می باشد علیہ وسلم۔اور اس کے حصول کی ذمہ داری پڑتی ہے امت مسلمہ پیر اور اس زمانہ میں علمانوں میں سے اس جماعت پر چین کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہت سے از سر نو خدا اور اس کے رسول کے لیے زندہ کیا گیا ہے۔اس آیت میں بحالہ تعالی فرماتا ہے کہ تم پر یتیم کی گی او سخت کرنا نہیں چاہتے تھیں پاک کرنا اور تم پراپنے احسان کو پورا کرنا ہمارا مقصد ہے۔اگر روحانی پاکیز گیکی تعلیم کے ساتھ ساتھ جہانی صفائی اور پاکندگی کی تعلیم دی جاتی تواللہ تعالی کا انعام اور احسان ادھورا رہ جاتا رول نعمتَ عَلَيْكُمْ۔اس نے یہ پسند کیا کہ وہ اپنے احسان کو پورا کرے اور اتمام نعمت کرے۔اس نے یہ تعلیم اس لیے دی ہے تا تمھارے اندر کوئی کن باقی نہ چھوٹی ہے اور کامل اور مکمل طور پر تھیں پاک اور متر بنا دے۔راسی طرح قرآن کریم نے پانی کے متعلق فرمایا کہ اس کے بہت سے فوائد ہیں۔ایک یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم ظاہری صفائی کرتے ہو، کپڑے دھوتے ہو ، برتن دھوتے ہو، گلیاں صاف کرتے ہو ، مکانوں کو دھوتے ہو جہموں کو دھوتے ہو۔ہزار پا کیز گیاں ہیں جو پانی کے ذریعہ سے حاص سے حاصل کی جاتی ہیں ماہ تبط قر كمب - الانفال: دريه آیت ۱۲ تو قرآن کریم ظاہری اور باطنی صفائی اور پاکیزگی کی تعلیم سے بھرا پڑا ہے۔اور صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کی ذات ہی ہے جن کے ذریعہ تمر بیت اللہ کا یہ مقصد حاصل ہوتا ہے۔خانہ خدا کی تعمیر کی بارھویں غرض بطابعین میں تبانی گئی تھی اور اس لفظ میں اس طرف اشارہ تھا کہ قوائم خدا عالم کے نمایند سے بار بار ہاں اس لیے نبی ہوں گے کہ وپاکیزگی اور مارت کی تعلیم حاصل کریں اور پھر اپنے اپنے علاقہ میں جاکر اس تعلیم کو پھیلائیں اور اس کی اشاعت کریں۔یہ فرض بھی تحقیقی طور پر صرف اور صرف محمد رسول اللہ صل اللہ