تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 41 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 41

تشند ، تعوذ اور سورہ فاتھ کے بعد حضور پر نور نے آیت إِن أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى گور يبكة مبركًا وَهُدًى لِلْعَلَمِينَ رسورة ال عمران : ۹۷) کی تلاوت فرمائی ، پھر فرمایا : میں بتا رہا ہوں کہ آیات کریمہ میں جو منی امت صد تعمیر بیت اللہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ م بعثت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی طرح پورے ہوئے پچھلے ایک خطبہ میں وضع بالناس کی تفسیر اس میں منظر ایکہ میں میں نے پیش کی تھی۔دوسرا مقصد جو ان آیات میں بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ خانہ کعبہ مبارک ہے میں نے بتایا تھا کہ مبارک کا لفظ یہاں دونوں میں لیا جا سکتا ہے۔اول یہ کہ ظالم کعبہ اقوام عالم کے نمایندوں کی قیام گاہ بنے گا اور تمام اقوام سے ایسے لوگ یہاں جمع ہوتے رہیں گے، جو روحانی میدانوں کے شیر ہوں گے۔بہادری کے ساتھ ثابت قدم رہنے والے الہلال کی یقیام گاہ چنگی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اس معنی میں بہت اللہ ساری دنیا کے لیے نبی کرم صلی اللہ علیہ سلم کی بہت سے قبل مبارک کبھی نہیں ہوا، یعنی اقوام عالم کے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل خانہ کعبہ کی اس بیت اللہ کی محبت اس تنگ میں کبھی پیدا نہیں ہوئی کہ یہ اس کی طرف بھیجے چلے آتے اور خانہ کعبہ میں کوئی ایسا سامان بھی نہ تھا کہ اگر اقوام عالم کے نمایندے وہاں پہنچتے تو ان کے دلوں کی تسکین کا وہ باعث بنتا۔