تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 22
پس یہاں یہ بتایا ہے کہ وہ امت جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام) کی ذریت سے پیدا ہونے والی ہے وہ امت مسلمہ بنے۔اُس نبی کا انکار نہ کرے۔اس نبی پر ایمان کر جو ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر پیریں وہ ان کو سہانے کی قوت اور استعداد رکھنے والی ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان کو ایسی ہی قوم بنانا چاہتے ہیں اور اسی غرض سے ہم نے خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر کروائی ہے۔اکیسواں مقصد بیان یہ بیان فرمایا کہ آرینا منا بننا اس میں اس طرف اشار فرمایا کہ کا منظر سے ایک ایسا آی پیلا ہوگا جو دنیا کی طرف اس وقت آئے گا جب وہ اپنی روحانی اور ذہنی نشو و نما کے بعد ایسے مقام پر ہی چکی ہوگی کہ وہ کامل اور مکمل شریعیت کی حامل بن سکے۔ایسی شریعت جس میں پہلی شریعتوں کے مقابلہ میں لچک ہو۔ایسی شریعت جس میں مناسب حال عمل کنے کی تعلیم دی گئی ہو اور اسی شریعت جو ہر قوم اور ہرزمانہ کی ضرورتوں کو پول کرنے والی ہو۔اینا منا سکتا ہمارے مناسبال کو کام اور جو عبادتیں ہیں جو ذمہ داریاں ہی وہ ہمیں دکھ اور کھا یعنی قرآنی شریعت کو ہم پر نازل فرما پس آرنا منا سکتامیں یہ بتایا گیا ہے کہ جب وہ رسول آئے گا اس کا تعلق دنیا کی ساری اقوام سے ہوگا اور بہترین سے ہو گا اس دعا کرتے رہو کہ اسے ہمارے رب ! قوم قوم کی ضرورتوں اور طبیعتوں میں فرق اور زمانہ زمانہ کے مسائل میں فرق کے پیش نظر شریت اسی کامل اور قتل کیا کہ جوہر قوم کے فطری تقاضوں کو پوراکرنے والی ہو اور ہر زمانہ کے مسائل کو سلجھانے والی ہو۔۔۔۔۔قیامت تک زندہ رہنے والی ہو تا جس غرض کے لیے اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی ہے وہ پوری ہو۔۔۔بائیسویں غرض اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ تب تعلمنا۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو آخری شریعیت بیاں انیل کی جائے گی اس کا بڑا گر اتعلق رب کو اب سے ہوگا اور اس شریعیت کے پیڑ اس حقیقت کو پہچاننے والے ہونگے کہ توبہ اور مغفرت کے بغیر معرفت کا حصول ممکن نہیں ہے اس لیے وہ بار بار اس کی راہ میں قربانیاں بھی دینے والے ہوں گے اور بار با اس کی طرف رجوع بھی کرنے والے ہوں گے اور کہیں گے کہ اے خدا ! ہماری خطاؤں کو معاف کر دے۔وہ ایسی قوم ہوگی کہ جو نیکی کرنے کے بعد بھی اس بات سے ڈر رہی ہوگی کہ کہیں ہماری نیکی ہی کوئی ایسا رخنہ نہ رہ گیا ہوئیں سے ہمارا ارہت ناراض ہو جائے۔وہ ہر وقت استغفار اور تو بہ میں مشغول رہنے والی قوم ہوگی۔