تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 23
تیسواں مقصد اللہ تعالے نے یہ فرمایا کہ ربنا و البعث فِيهِمْ رَسُولًا منهم که محمد رسول اله صل اللَّه علا قلم کا مولد اسے بنانا چاہتے ہیں، ہم اسے ایسا مقام بنانا چاہتے ہیںکہ جس کے ماحول میں تضرع اور ابتہال کے ساتھ، عاجزی اور انکسار کے ساتھ عشق اور محبت کے ساتھ کی گئی دعاؤں کے نیت میں ہم اپنے ایک عبد العلم کو محویت کے مقام رکھا کریں اور اس کے ذریعہ سے ایک ایسی شریعت کا قیام ہوگا اور ایک ایسی امت کو جنم دیا جائے گا کہ جو زندہ نشان اپنے ساتھ رکھتی ہوگی۔تلُوا عليهم ايتك اور زندہ خدا کے ساتھ اور زندہ نبی کے ساتھ اور زندہ شریعت کے ساتھ ان کا تعلق ہوگا اوران کو کامل شریعیت کا سبق دیا جائے گا لیکن ناسمجھ بچوں کو جس طرح کہا جاتا ہے ان سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ تیم کھتے ہیں اور تم مانو اللہ تعالی ان کی عقل اور فراست کو تیز کرنے کے لیے اپنے احکام کی حکمت بھی ان کو تبائے گا اس نبی کے ذریعے۔اور اس طرح وہ کچھ ایسے پاک کردئیے جائیں گے کہ اس قسم کی پاکیزگی کی پہلی قوم کو حاصل نہ ہوئی ہوگی۔اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہماری عقل بھی تسلیم کرتی ہے کیونکہ اگرپہلی امتوں پر نسبتہ ناقص شریعتوں کا نزول ہوا اور اس ناقص کا نمائی کے نیتجہیں ان کا تزکیہ ہو تو وہ ترکی کامل نہیں۔وہ ان کی فطرت کے مطابق، اُن کی استعداد کے مطابق ، اُن کی قوت کے مطابق تو ہے لیکن وہ کامل تزکیہ نہیں ہے کیونکہ جوتعلیم انہیںدی گئی ہے وہ کامل نہیں کیونک ان کی استعداد بھی کام نہیں پھر جب دو قوم پیدا ہوگئی جو کامل شریعت کی حامل ہونے کی استعداد بھتی تھی تو ان میں سے جن لوگوں نے انتہائی قربانیاں دے کر اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کے تمام احکام پر عمل کرکے اور تمام نواہی سے بچنے ہوئے اس کے حضور گریہ و زاری میں اپنی زندگی گزاری ان کو جو تزکیۂ نفس حاصل ہو گا محض خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ کہ ان کے اعمال کے نتیجہ میں وہ ایک ایسا کامل تزکیہ ہوگا۔وہ ایک ایسی مکمل طہارت اور پاکیزگی ہوگی۔اللہ تعالیٰ کی ایسی خوشنودی اور رضا ہوگی کہ قسم کی رضا پہلی قوموں نے حاصل نہیں کی ہوگی۔پس اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ تئیسویں غرض بہت اللہ کے قیام کی یہ ہے کہ ایک خیر الرئیل صلی اللہ علیہ وسلم دنیاکی طرف مبعوث کیا جائے اور پھر انسان کو اس ارفع مقام پر لاکھڑا کیا جائے میں ارفع مقام پر کھڑا کرنے کے لیے ہم نے اسے پیدا کیا تھا۔