تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 21
اور ہماری حقیر سائی کو سیم منفرت سے دیکھا اور رحمت کے سامان پیدا کر تا کہ ہماری ساحلی اور کوششیں تیرے منصور قبول ہو جائیں۔غرض است قسم کی قوم پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالی نے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھیں۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ خانہ کعبہ کی ز سر نو تعمیر سے اٹھارھواں مقصد یہ ہے کہ دیا یہ جانے کہ جولوگ ضد تعالی کے حضور اس رنگ میں دعائیں کرتے ہیں وہی ہیں جو اپنے رب کی صفت سمیع کا نظارہ دیکھتے ہیں اورپھر دنیا دکھتی ہے کہ ہمارا رب جو ہے وہ مسلنے والا ہے۔وہ تمہاری دعاؤں کو سنتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں نے تمہاری دعاؤں کو ستا پن یا کبیر کے قیام کے نتیجہ یں خدائے جمع کی معرفت دنیا حاصل کرے گی۔ائیسواں مقصد یہ ہے کہ دنیا اس کے ذریعہ سے خدائے علیم کی معرفت حاصل کرے گی۔یہ نہیں ہوگا کہ بندہ نے اپنے علم ناقص کے نیت میں جو دعا کی اسے اللہ تعالی نے اسی جنگ میں قبول کر لیا کہ بندہ دعا کرے گا اور دعا کو نہ ایک پرانے و تو اس کا رب اس کی دعا کو سنے گا اور قبول کرے گا، گر قبول کرے گا اپنے علی نیب کے تقاضا کو پورا کرتے ہوئے پین میں انگ میں وہ دعائیں قبول ہونی چاہئیں اس رنگ میں بعض دعاؤں کا رد ہو جانا یا بعض دعاؤں کا اس شکل میں پورا نہ ہوتا ہی تنگ میں کہ وہ کی گئی ہیں یہ ثابت نہیں کرے گا کہ خدا اس میں نہیں ہے یا قادر نہیں ہے بلکہ وہ یہ ثابت کرے گا کہ خدا تعالیٰ ہی کی ذات علام الغیوب ہے۔تو خانہ کعبہ کی بنیاد اس لیے رکھی گئی کہ خداتعالی کے بندے خدائے علیم سے متعارف ہوائیں اور اس کو جاننے لگیں اور بجانے لگیں۔بیسویں غرض یہاں یہ بیان کی گئی ہے کہ ومِن دُنَا أُمَّةٌ مُسْلِمَةٌ لَكَ يعنى من مسلر جاری ذریت میں سے بنائیں۔اللہ تعالی نے یہاں یہ بتایا ہے کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ جس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف سبورت ہوں تو آپ کی قوم امة مسلمة بنے کی اہمیت رکھتی ہواور اب انہیں دعاؤں کے نیت ہیں وہ امت مسلہ بن بھی جائے گی اوراس کے یہی نہیں کہ دینی ہی کا وعدہ دیاگیاہے کہ وہ گرمی پیا ہوگا گرم د ا کرتے ہوکہ اے خدا ماری اور بہاری نسلوں ک کسی غفلت اور کوتاہی کے نی میں کہیں ایسانہ ہوکہ تیرے نزدیک ہم اس قابل نہ رہیں کہ وہ وعدہ ہائے ساتھ پورا ہو کہ کسی اور قومی نبی مبعوث ہو جائے توفرمایا میری اولاد کو ہی امت مسلمہ بنانا۔پہلے مخاطب ہی ہوں اور سب کے سب قبول کرنے والے بھی دہی ہوں۔وه