حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 63 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 63

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات گزرے تو یہ لوگ اسے مارا پیٹا کرتے ہیں۔آپ درمیان میں ہو جائیں تا کہ یہ لوگ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔اتنے میں ان میں سے ایک شخص نے جب مجھے دیکھا تو میری طرف دوڑ پڑا انہوں نے سمجھا کہ شاید حملہ کرنے کے لیے آیا ہے مگر جب وہ میرے قریب پہنچا تو اس نے سلام کیا اور ہاتھ بڑھا کر ایک روپیہ پیش کیا کہ یہ آپ کا نذرانہ ہے۔گاؤں سے باہر نکل کر وہ دوست حیران ہو کر کہنے لگے ہمیں تو ڈر تھا کہ یہ شخص آپ پر حملہ نہ کر دے۔مگر اس نے تو نذرانہ پیش کر دیا۔میں اس وقت ان کی بات سے یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ خیال غالباً اسی لیے پیدا کیا تھا کہ وہ اپنی قدرت کو ظاہر کرنا چاہتا اور بتانا چاہتا تھا کہ لوگوں کے دل میرے اختیار میں ہیں غرض جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق آتا ہے تو ایسی ایسی جگہوں سے آتا ہے کہ انسان کو اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔قریب تھا کہ میں مرجاتا (سوانح فضل عمر جلد پنجم صفحہ ۹۷) نماز کی محبت تعلق باللہ کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔اللہ سے تعلق جتنا شدید ہوگا نماز کی محبت بھی اتنی ہی شدید ہوگی۔اس پہلو سے آپ کے تعلق باللہ کا ایک واقعہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” مجھے یاد ہے چند سال ہوئے۔میں ایک دفعہ دفتر سے اٹھا تو مغرب کے قریب جب کہ سورج زرد ہو چکا تھا مجھے یہ وہم ہو گیا کہ آج مجھے کام میں 63