حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 64
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات مصروف رہنے کی وجہ سے عصر کی نماز پڑھنی یاد نہیں رہی جب یہ خیال میرے دل میں آیا تو یکدم میرا سر چکرایا اور قریب تھا کہ اس شدت غم کی وجہ سے میں اس وقت گر کر مر جاتا کہ معا اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے یاد آ گیا کہ فلاں شخص نے مجھے نماز کے وقت آکر آواز دی تھی اس وقت میں نماز پڑھ رہا تھا پس میں نماز پڑھ چکا ہوں لیکن اگر مجھے یہ بات یاد نہ آتی تو اس وقت مجھ پر اس غم کی وجہ سے جو کیفیت ایک سیکنڈ میں ہی طاری ہوگئی وہ ایسی تھی کہ میں سمجھتا تھا اب اس صدمہ کی وجہ سے میری جان نکل جائے گی۔میر اسر یکدم چکرا گیا اور قریب تھا کہ میں زمین پر گر کر ہلاک ہو جاتا۔“ وہ جلد ہی ان پر فضل کرے گا حضرت سیدہ مہر آپ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: ( سوانح فضل عمر جلد پنجم صفحه ۶۱) 1953ء کے فسادات کا زمانہ تھا۔محض احمدیت کی دشمنی کی بناء پر حضرت میاں ناصر احمد صاحب ( خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ ) اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ کو قید کر لیا گیا۔گرمیوں کے دن تھے۔عشاء کے وقت ہم حسب معمول صحن میں اکٹھے بیٹھ کر رات کا کھانا کھا رہے تھے۔اس موقع پر میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا' پتہ نہیں! میاں ناصر احمد اور مرزا شریف احمد صاحب کا اس گرمی میں کیا حال ہوگا ؟ خدا معلوم انہیں جیل میں کوئی سہولت بھی میسر ہے یا نہیں؟ اس پر حضرت مصلح موعودؓ نے جواباً فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔وہ صرف اس جرم پر ماخوذ ہیں کہ ان کا 64