حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 61
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات تھوڑی چکھائی کہ یہ ہمارے خدا کی طرف سے مہمان نوازی ہوئی ہے۔“ (الفضل 22 مئی 1960 صفحہ 5،4)(سوانح فضل عمر جلد پنجم صفحہ 98) جو خدا وہاں ہے وہی یہیں ہے سوانح فضل عمر جلد پنجم صفحہ 360 پر عبدالباسط شاہد صاحب تحریر فرماتے ہیں: ۱۹۵۳ء میں جب پنجاب میں فسادات رونما ہوئے ، احمدیت کی شدید مخالفت کی گئی احمدیوں کے گھروں کو آگئیں لگائی گئیں اور اس قسم کی افواہیں سننے میں آئیں کہ کہیں آپ پر بھی ہاتھ نہ ڈالا جائے اور گرفتار نہ کر لیا جائے۔چنانچہ اُن دنوں میں قصر خلافت کی تلاشی بھی لی گئی لیکن آپ کی طبیعت میں ذرہ بھر بھی گھبراہٹ نہ تھی سکون سے اپنے کام جاری تھے۔جو لوگ آپ سے محبت کرتے تھے انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ چند روز کے لئے باہر چلے جائیں بلکہ گھبرا کر کراچی کے بعض ذمہ دار دوست آپ کو لینے کے لئے بھی آگئے کہ آپ وہاں چلے چلیں چند دن میں یہ شورش ختم ہو جائے گی۔آپ نے ان دوستوں کا ہمدردانہ مشورہ سنا تھوڑی دیر کے لئے اندر آئے اور آکر دعا شروع کر دی۔دعاختم کر کے باہر تشریف لے گئے اور جا کر ان دوستوں سے کہا کہ میں ہرگز جانے کے لئے تیار نہیں جو خدا وہاں ہے وہی یہیں ہے۔اللہ تعالیٰ میری یہیں حفاظت کرے گا اور جو مجھ پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے گا وہ خدا تعالیٰ کے عذاب اور گرفت سے ڈرے۔چنانچہ چند ہی دن میں ملک میں انقلاب آگیا۔جو مخالفت میں اُٹھے تھے جھاگ کی طرح بیٹھ گئے اور جوان کے سرکردہ تھے وہ الہی گرفت میں آئے۔“ ( سوانح فضل عمر جلد پنجم صفحہ 360) 61