حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 60
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات خواجہ خضر ہماری دعوت کیجئے تعلق باللہ کا ایک دلچسپ واقعہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے سید نا حضرت مصلح موعود بیان کرتے ہیں کہ : ”ایک دفعہ میں کشتی میں بیٹھا دریا کی سیر کر رہا تھا اور بھائی عبدالرحیم صاحب میرے ساتھ تھے۔میرے لڑکے ناصر احمد نے بچپن کے لحاظ سے کہا کہ ابا جان اگر اس وقت ہمارے پاس کوئی مچھلی بھی ہوتی تو بڑا مزہ آتا۔اس وقت یکدم میرے دل میں ایک خیال پیدا ہوا لوگ تو خواجہ خضر سے کچھ اور مراد لیتے ہیں مگر میں یہ سمجھا کرتا ہوں کہ خضر ایک فرشتہ ہے جس کے قبضہ میں اللہ تعالیٰ نے دریا ر کھے ہوئے ہیں۔جب ناصر احمد نے یہ بات کہی تو میں نے کہا خواجہ خضر ہم آپ کے علاقہ میں سے گزر رہے ہیں ہماری دعوت کیجئے اور ہمیں کھانے کے لئے کوئی مچھلی دیجئے۔جونہی میں نے یہ فقرہ کہا بھائی جی کہنے لگے آپ نے یہ کیا کہدیا کہ خواجہ خضر ہماری دعوت کریں۔اس سے تو بچے کی عقل ماری جائے گی مگر ابھی بھائی جی کا یہ فقرہ ختم ہی ہوا تھا کہ یکدم ایک بڑی سی مچھلی کو دکر ہماری کشتی میں آگری۔میں نے کہا لیجئے بھائی جی دعوت کا سامان آ گیا۔وہ حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہو گیا کہ ادھر میری زبان سے یہ نکلا کہ خواجہ خضر ہم آپ کے علاقہ سے گزررہے ہیں ہماری دعوت کیجئے اور ادھر انہوں نے یہ کہا کہ آپ کیا کہتے ہیں خواجہ خضر بھی کہیں دعوت کیا کرتے ہیں کہ یکدم ایک بڑی سی مچھلی ہماری کشتی میں آپڑی اور میں نے کہا بھائی جی لیجئے۔مچھلی آگئی۔چنانچہ اس کے بعد ہم نے وہ مچھلی پکا کر تبرک کے طور پر سب ہمراہیوں کو تھوڑی 60