حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 51
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات کے وجود کا کیا ثبوت ہے؟ میں دیر تک رات کے وقت اس مسئلہ پر سوچتا رہا۔آخر دس گیارہ بجے میرے دل نے فیصلہ کیا کہ ہاں ایک خدا ہے۔وہ گھڑی میرے لئے کیسی خوشی کی گھڑی تھی جس طرح ایک بچے کو اس کی ماں مل جائے تو اسے خوشی ہوتی ہے اسی طرح مجھے خوشی تھی کہ میرا پیدا کرنے والا مجھے مل گیا۔سماعی ایمان علمی ایمان سے تبدیل ہو گیا۔میں اپنے جامہ میں پھولا نہیں سماتا تھا۔میں نے اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دُعا کی اور ایک عرصہ تک کرتا رہا کہ خدایا! مجھے تیری ذات کے متعلق کبھی شک پیدا نہ ہو۔اس وقت میں گیارہ سال کا تھا۔۔مگر آج بھی اس دُعا کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔میں آج بھی یہی کہتا ہوں ” خدایا تیری ذات کے متعلق مجھے کبھی شک پیدا نہ ہو۔ہاں اُس وقت میں بچہ تھا۔اب مجھے زائد تجربہ ہے۔اب میں اس قدر زیادتی کرتا ہوں کہ خدا یا مجھے تیری ذات کے متعلق حق الیقین پیدا ہو۔جب میرے دل میں خیالات کی وہ موجیں پیدا ہونی شروع ہوئیں جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے تو ایک دن ضحی کے وقت یا اشراق کے وقت میں نے وضو کیا اور وہ مجتہ اس وجہ سے نہیں کہ خوبصورت ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے اور متبرک ہے یہ پہلا احساس میرے دل میں خدا تعالیٰ کے فرستادہ کے مقدس ہونے کا تھا، پہن لیا تب میں نے اس کوٹھڑی کا جس میں میں رہتا تھا دروازہ بند کر لیا اور ایک کپڑا بچھا کر نماز پڑھنی شروع کی اور میں اس میں خوب رویا ، خوب رویا، خوب رویا اور اقرار کیا کہ اب نماز کبھی نہیں چھوڑوں گا۔اس گیارہ سال کی عمر میں مجھ میں کیسا عزم تھا! اس اقرار کے بعد میں نے کبھی نماز نہیں چھوڑی گو اس نماز کے بعد کئی سال 51