حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 50
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات کے لئے نازل فرما یا۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع آپ کے متعلق فرماتے ہیں : آپ اُن ممتاز ابنائے آدم میں سے تھے جو صدیوں ہی میں نہیں بلکہ ہزاروں سالوں میں کبھی ایک بار افق انسانیت پر طلوع ہوتے ہیں اور جن کی روشنی صرف ایک نسل کو نہیں بلکہ بیبیوں انسانی نسلوں کو اپنی ضیا پاشی سے منوّر کرتی رہتی ہے۔“ (سوانح فضل عمر جلد اول صفحه” و “) بچپن سے ہی آپ بہت نیک، پاک مشقی اور صاحب رؤیا وکشوف تھے۔اللہ اور اس کے رسول اور اسلام سے محبت رکھنے والے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی انتہائی پاکیزہ صحبت کا آپ پر خاص اثر تھا۔نماز سے ایسی محبت تھی کہ لمبی لمبی نمازیں پڑھتے اور سجدوں میں خوب گریہ وزاری کرتے۔حضرت مصلح موعودؓ کے تعلق باللہ کے چند ایمان افروز واقعات ذیل میں درج کئے جارہے ہیں :۔اُس وقت میں گیارہ سال کا تھا بچپن سے ہی آپ کو خدا کی ہستی موجود ہونے پر یقین حاصل ہو گیا۔یہ واقعہ یقیناً حیرت انگیز ہے کہ جس عمر کو بچے محض کھیل کود میں گزار دیتے ہیں اُس عمر میں آپ خدا کی جستجو اور اُس کی ہستی کی تلاش اور ثبوت میں غور و فکر کرتے ہیں۔نہ صرف غور و فکر کرتے ہیں بلکہ مثبت نتیجہ پر پہنچ کر انتہائی خوشی حاصل کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: ”جب میں گیارہ سال کا ہوا اور 1900 ء نے دُنیا میں قدم رکھا تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں خدا تعالیٰ پر کیوں ایمان لاتا ہوں اس 50