حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 41
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات سامان گھر جانے کا کر دو اور جس قدر رو پید کی ان کو ضرورت ہو، دیدو، اور اسباب کو وہ ساتھ نہ لیجا سکیں تو تم اپنے اطمینان سے بحفاظت پہنچا دو۔آپ نے فرمایا کہ: مجھ کو روپیہ کی ضرورت نہیں۔خزانہ سے بھی روپیہ آ گیا ہے اور ایک رانی نے بھی بھیج دیا ہے۔میرے پاس روپیہ کافی سے زیادہ ہے اور اسباب میں سب ساتھ ہی لیجاؤں گا“۔آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ دلوں کو جانتا ہے۔ہم اس کا رو پید انشاء اللہ جلد ہی ادا کر دیں گے۔تم ان بھیدوں کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔“ قرض کی ادائیگی کا قصہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسی موقعہ پر اس قرض کی ادائیگی کا قصہ بھی بیان کر دیا جائے۔محترم جناب غلام فرید صاحب ایم۔اے فرمایا کرتے ہیں کہ جتنا موقعہ مجھے حضرت خلیفتہ اسی الاول کی صحبت میں رہنے کا ملا ہے بہت کم لوگوں کو اتنا موقعہ ملا ہو گا۔آپ نے بارہا اس قرض کی ادائیگی کا ذکر فرمایا لیکن یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ وہ قرض حضور نے کس طرح ادا فرمایا۔حضور کا زمانہ گزر گیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا زمانہ آیا۔اس میں سے بھی کافی عرصہ گزر گیا۔میں نے جب قرآن مجید کی انگریزی تفسیر کی طباعت کے سلسلہ میں لاہور آنا شروع کیا تو ایک مرتبہ جناب ملک غلام محمد صاحب قصوری کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اس قرض کی ادائیگی کا ذکر چل پڑا۔محترم ملک صاحب مرحوم نے فرمایا کہ حضرت مولوی صاحب جب سیاسی حالات کے ماتحت مہاراجہ جموں و کشمیر کی ملازمت سے الگ کئے گئے تو بعد میں حالات کے سدھرنے پر مہاراجہ صاحب کو خیال آیا کہ مولوی 41