حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 42
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات صاحب ایک بہت بڑے حاذق طبیب تھے ان کو ملا زمت سے علیحدہ کرنے میں ہم سے ظلم اور نا انصافی ہوئی ہے انہیں واپس لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔آپ سے جب عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اب میں ایسی جگہ پہنچ چکا ہوں کہ اگر مجھے ساری دنیا کی حکومت بھی مل جائے تو میں اس جگہ کو نہیں چھوڑ سکتا۔چونکہ مہاراجہ صاحب کو اس نا انصافی کا شدت سے احساس تھا۔اس لئے انہوں نے اس کا ازالہ کرنے کی یہ تجویز کی کہ اب کی مرتبہ جنگلات کا ٹھیکہ صرف اسی شخص کو دیا جائے جو منافع کا نصف حصہ حضرت مولوی صاحب کو ادا کرے۔چنانچہ اسی شرط کے ساتھ ٹینڈر طلب کئے گئے۔جس شخص کو ٹھیکہ ملا۔اس نے جب سال کے بعد اپنے منافع کا حساب کیا تو خدا تعالیٰ کی حکمت کہ اسے ٹھیک تین لاکھ نوے ہزار روپیہ منافع ہوا۔جس کا نصف ایک لاکھ پچانوے ہزار بنتا تھا اور اسی قدر حضور کے ذمہ قرض تھا۔چنانچہ جب یہ روپیہ حضور کی خدمت میں پیش کیا گیا تو حضور نے فرمایا۔یہ رو پیدر یاست میں واپس لے جا کر فلاں سیٹھ صاحب کو دیدیا جائے۔ہم نے اس کا قرض دینا ہے۔دوسرے سال مہاراجہ نے پھر اسی شرط پر ٹھیکہ دیا۔لیکن اس سال جب منافع کا نصف روپیہ حضور کی خدمت میں پیش کیا گیا تو حضور نے لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ نہ اس کام میں میر اسرمایہ لگانہ میں نے محنت کی میں اس کا منافع لوں تو کیوں لوں؟ ٹھیکہ دار نے کہا جناب ! مجھے تو یہ ٹھیکہ ملا ہی اس شرط پر تھا۔آپ ضرور اپنا حصہ لے لیں۔ورنہ آئندہ مجھے ٹھیکہ نہیں ملے گا۔حضور نے فرمایا اب خواہ کچھ ہی ہو میں یہ روپیہ نہیں لوں گا۔اس نے کہا۔پھر پچھلے سال کیوں لیا تھا؟ فرمایا۔وہ تو میرے رب نے اپنے وعدہ کے مطابق میرا قرض اتارنا تھا۔جب وہ اُتر گیا تو اب میں کیوں لوں۔اس پر وہ ٹھیکہ دار واپس چلا گیا۔(حیات نو ر باب سوم صفحہ 180 -182 ) 42