حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 40 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 40

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات اور بالکل متوکلانہ زندگی بسر کرتے تھے۔جموں میں حاکم نام ایک ہندو پنساری رہتا تھا۔وہ ہمیشہ آپ کو نصیحتا کہا کرتا تھا کہ آپ ہر ماہ کم از کم ایک صد روپیہ پس انداز کر لیا کریں۔یہاں بعض اوقات اچانک مشکلات پیش آجایا کرتی ہیں۔مگر آپ اُسے ہمیشہ یہی فرمایا کرتے تھے کہ ایسے خیالات لا نا اللہ تعالیٰ پر بدظنی ہے۔ہم پر انشاءاللہ کبھی مشکلات نہ آئیں گے۔جس روز آپ کو ملازمت سے علیحدگی کا نوٹس ملا۔وہ ہندو پنساری آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب ! شاید آج آپ کو میری نصیحت یاد آئی ہوگی۔آپ نے فرمایا۔تمہاری نصیحت کو میں جیسا پہلے حقارت سے دیکھتا تھا آج بھی ویسا ہی حقارت سے دیکھتا ہوں۔ابھی وہ آپ سے باتیں ہی کر رہا تھا کہ خزانہ سے چارسو اسی روپئے کی ایک رقم آپ کی خدمت میں اس چٹھی کے ہمراہ پہنچادی گئی کہ یہ آپ کی ان دنوں کی تنخواہ ہے جو اس ماہ میں سے گزر چکے ہیں۔اس پنساری نے افسروں کو گالی دے کر کہا کہ ” کیا نوردین تم پر نائش تھوڑا ہی کرنے لگا تھا۔ابھی وہ اپنے غصہ کو فرو نہ کرنے پایا تھا کہ ایک رانی صاحبہ نے آپ کے پاس اپنے جیب خرچ کا بہت سارو پیہ بھجوایا اور معذرت بھی کہ اس وقت ہمارے پاس اس سے زیادہ روپیہ نہیں تھا ورنہ ہم اور بھی بھجواتے۔اس روپیہ کو دیکھ کر تو اس پنساری کا غضب اور بھی بڑھ گیا۔آپ اس وقت ایک لاکھ پچانوے ہزار روپیہ کے مقروض بھی تھے اور اُسے اس قرض کا علم تھا۔اس قرض کی طرف اشارہ کر کے وہ کہنے لگا کہ بھلا یہ تو ہوا۔جن کا آپ کو قریباً دولاکھ روپیہ دینا ہے وہ اپنا اطمینان کئے بغیر آپ کو کیسے جانے دیں گے۔ابھی اس نے یہ بات ختم ہی کی تھی کہ قارض کا ایک آدمی آیا اور بڑے ادب سے ہاتھ باندھ کر کہنے لگا کہ میرے پاس ابھی تار آیا ہے۔میرے آقا فرماتے ہیں کہ ”مولوی صاحب کو تو جانا ہے۔ان کے پاس روپیہ نہ ہوگا۔تم اُن کا سب 40