حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 18
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات ہوں۔اس پر بڑے مرزا صاحب نے کہا اچھا نو کر ہو گئے ہو تو خیر ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ کالہواں قادیان سے جنوب کی طرف دومیل کے فاصلہ پر ایک گاؤں ہے اور نوکر ہونے سے مراد خدا کی نوکری ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ جھنڈا سنگھ کئی دفعہ یہ روایت بیان کر چکا ہے اور وہ قادیان کی موجودہ ترقی کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود کا بہت ذکر کیا کرتا ہے اور آپ سے بہت محبت رکھتا ہے۔(سیرۃ المہدی جلد اول حصہ اول مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے صفحہ نمبر 43 روایت نمبر 52) جب آپ فرماتے گرمی بہت ہے تو بارش ہو جاتی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے بیان کرتے ہیں کہ : بیان کیا ہم سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ حضرت مسیح موعود کا زمانہ عجیب تھا قادیان میں دو دن گرمی نہیں پڑتی تھی کہ تیسرے دن بارش ہو جاتی تھی۔جب گرمی پڑتی اور ہم حضرت صاحب سے کہتے کہ حضور بہت گرمی ہے تو دوسرے دن بارش ہو جاتی تھی۔نیز مولوی سید سرور شاہ صاحب نے بیان کیا کہ اس زمانہ میں فصلوں کے متعلق بھی کبھی شکایت نہیں ہوئی۔خاکسار نے گھر آکر والدہ صاحبہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت صاحب جب فرماتے تھے کہ آج بہت گرمی ہے تو عموماً اسی دن یا دوسرے دن بارش ہو جاتی تھی۔اور آپ کے بعد تو مہینوں آگ برستی ہے اور بارش نہیں ہوتی۔(سیرۃ المہدی جلد اول حصہ اول مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے صفحہ 52،51 روایت نمبر 70) 18