حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 19 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 19

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات ہمیں کوئی آگ میں ڈال کر دیکھ لے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے بیان کرتے ہیں کہ بیان کیا مجھ سے چوہدری حاکم علی صاحب نے کہ ایک دفعہ کسی ہندو نے اعتراض کیا کہ حضرت ابراہیم پر آگ کس طرح ٹھنڈی ہو گئی۔اس اعتراض کا جواب حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول نے لکھا کہ آگ سے جنگ اور عداوت کی آگ مراد ہے۔انہی ایام میں ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام چھوٹی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور ہم لوگ آپ کے پاؤں دبا رہے تھے اور حضرت مولوی صاحب بھی پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے حضرت صاحب کو یہ اعتراض اور اس کا جواب جو مولوی صاحب نے لکھا تھا سنایا۔حضرت صاحب نے فرمایا اس تکلف کی کیا ضرورت ہے ہم موجود ہیں ہمیں کوئی آگ میں ڈال کر دیکھ لے کہ آگ گلزار ہو جاتی ہے یا نہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ اعتراض دھرم پال آریہ مُرتد از اسلام نے کیا تھا اور حضرت مولوی صاحب نے اس کی کتاب ترک اسلام کے جواب میں نور الدین کتاب لکھی تھی۔اس میں آپ نے یہ جواب دیا تھا کہ آگ سے مراد مخالفوں کی دشمنی کی آگ ہے مگر حضرت صاحب تک یہ بات پہنچی تو آپ نے اس کو نا پسند فرمایا اور فرمایا کہ اس تاویل کی ضرورت نہیں اس زمانہ میں ہم موجود ہیں ہمیں کوئی مخالف دشمنی سے آگ کے اندر ڈال کر دیکھ لے کہ خدا اس آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے کہ نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے ایک دوسرے موقعہ پر اس مفہوم کو اپنے ایک شعر میں بھی بیان فرمایا ہے۔ترے مکروں سے اے جاہل مرا نقصاں نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑکر سلامت آنے والی ہے 19