حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 875 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 875

875 د عامر اعتقاد نہ رکھنا از دعا کن چاره آزار انکار دُعا چوں علاج کے زمے وقت خمار والتہاب انکار دعا کے مرض کا علاج دعاہی سے کر جیسے خمار کے وقت شراب کا علاج شراب سے ہی کیا جاتا ہے۔ایکہ گوئی گر دعا ہارا اثر بودے کجاست سوئے من بشتاب نیمایم ترا چون آفتاب اے وہ شخص جو کہتا ہے کہ اگر دعاؤں میں اثر ہے تو دکھاؤ کہاں ہے۔پس میری طرف دوڑتا کہ میں تجھے سورج کی طرح وہ اثر دکھاؤں۔ہاں مکن انکار زیں اسرار قدرتہائے حق قصہ کوتاہ کن ہیں از ما دعائے مستجاب خدا کی قدرتوں کے بھیدوں کا انکار نہ کر بات ختم کر۔اور ہم سے دعائے مستجاب دیکھ لے۔دعا مسلمانوں پر فرض ہے بركات الدعا۔رخ - جلد 6 صفحہ 33) دعا جو خدا تعالیٰ کی پاک کلام نے مسلمانوں پر فرض کی ہے۔اس کی فرضیت کے چار سبب ہیں۔ایک یہ کہ تا ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر تو حید پر پختگی حاصل ہو۔کیونکہ خدا سے مانگنا اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ مرادوں کا دینے والا صرف خدا ہے۔دوسرے یہ کہ تا دعا کے قبول ہونے اور مراد کے ملنے پر ایمان قوی ہو۔تیسرے یہ کہ اگر کسی اور رنگ میں عنایت الہی شامل حال ہو۔تو علم اور حکمت زیادت پکڑے۔چوتھے یہ کہ اگر دعا کی قبولیت کا الہام اور رویا کے ساتھ وعدہ دیا جائے اور اسی طرح ظہور میں آ وے تو معرفت الہی ترقی کرے اور معرفت سے یقین اور یقین سے محبت اور محبت سے ہر ایک گناہ اور غیر اللہ سے انقطاع حاصل ہو جو حقیقی نجات کا ثمرہ ہے۔(ایام الصلح رخ جلد 14 صفحہ 242) امن کی حالت میں دعا کرنا اللہ کا رحم ہے اس شخص پر جو امن کی حالت میں اسی طرح ڈرتا ہے جس طرح کسی مصیبت کے وارد ہونے پر ڈرتا ہے۔جو امن کے وقت خدا تعالے کو نہیں بھلاتا۔خدا تعالیٰ اسے مصیبت کے وقت نہیں بھلاتا۔اور جو امن کے زمانہ کو عیش میں بسر کرتا ہے۔اور مصیبت کے وقت دعائیں کرنے لگتا ہے تو اس کی دعا ئیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔جب عذاب الہی کا نزول ہوتا ہے تو تو بہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے پس کیا ہی سعید وہ ہے۔جو عذاب الہی کے نزول سے پیشتر دعا میں مصروف رہتا ہے۔صدقات دیتا ہے۔اور مرالہی کی تعظیم اور خلق اللہ پر شفقت کرتا ہے۔اپنے اعمال کو سنوار کر بجالاتا ہے یہی سعادت کے نشان ہیں۔درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح سعید اور شقی کی شناخت بھی آسان ہوتی ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 539)