حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 876
876 قبولیت دعا کے آثار عَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَّ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ۔(البقره: 217 ) دعا جب قبول ہونے والی ہوتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دل میں ایک سچا جوش اور اضطراب پیدا کر ( ملفوظات جلد دوم صفحه 164) دیتا ہے۔اور بسا اوقات اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دعا سکھاتا ہے۔اور الہامی طور پر اس اس کا پیرا یہ بتا دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔فتلقی ادم من ربه کلمات (البقره: 38) اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے راستباز بندوں کو قبول ہونے والی دعائیں خود الہاما سکھا دیتا ہے۔بعض وقت ایسی دعا میں ایسا حصہ بھی ہوتا ہے جس کو دعا کرنے والا نا پسند کرتا ہے مگر وہ قبول ہو جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس آیت کے مصداق ہے عــــــــــی آن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَّ هُوَ خَيْرٌ لَّكُم دعا کے اندر قبولیت کا اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انتہائی درجہ کے اضطرار تک پہنچ جاتی ہے جب انتہائی درجہ اضطرار کا پیدا ہو جاتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی قبولیت کے آثار اور سامان بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔پہلے سامان آسمان پر کئے جاتے ہیں اس کے بعد وہ زمین پر اثر دکھاتے ہیں۔یہ چھوٹی سی بات نہیں بلکہ ایک عظیم الشان حقیقت ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جس کو خدائی کا جلوہ دیکھنا ہو اسے چاہئے کہ دعا کرے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 618) قبولیت دعا کے ذرائع قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ۔(آل عمران: 32) قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں۔اول قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ دوم يايها الذى آمنوا صلوا عليه و سلّموا تسليما۔(الاحزاب:57) تیسرا موہبت الہی۔قبولیت دعا کے طریق ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 38) دعا اسی حالت میں دعا کہلا سکتی ہے کہ جب در حقیقت اس میں ایک قوت کشش ہو اور واقعی طور پر دعا کرنے کے بعد آسمان سے ایک نو را ترے جو ہماری گھبراہٹ کو دور کرے اور ہمیں انشراح صدر بخشے اور سکینت اور اطمینان عطا کرے۔ہاں حکیم مطلق ہماری دعاؤں کے بعد دوطور سے نصرت اور امداد کو نازل کرتا ہے (1) ایک یہ کہ اس بلا کو دور کر دیتا ہے جس کے نیچے ہم دب کر مرنے کو تیار ہیں (2) دوسرے یہ کہ بلا کی برداشت کے لئے ہمیں فوق العادت قوت عنایت کرتا ہے بلکہ اس میں لذت بخشتا ہے اور انشراح صدر عنایت فرماتا ہے۔پس ان دونوں طریقوں سے ثابت ہے کہ دعا سے ضرور نصرت الہی نازل ہوتی ہے۔(ریویو آف ریلیجنز جلد سوم نمبر 2 صفحہ 48 تفسیر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سورۃ المومن جلد 7 صفحہ 208)