حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 874
874 مقبولوں کی پہچان قبولیت دعا ہے مقبولوں کی اول علامت مستجاب الدعوات ہونا ہے خاص کر اس حالت میں جب کہ ان کا درد دل نہایت تک پہنچ جائے۔پھر اس بات کو سوچیں کہ کیونکر ممکن ہے کہ باوجود یکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے مارے غم کے بیجان اور نا تواں ہو کر ایک باغ میں جو پھل لانے کی جگہ ہے بکمال در دساری رات دعا کی اور کہا کہ اے میرے باپ اگر ممکن ہو تو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دیا جائے مگر پھر بھی بایں ہمہ سوز و گداز اپنی دعا کا پھل دیکھنے سے نامراد رہا۔یہ بات عارفوں اور ایمانداروں کے نزدیک ایسی جھوٹ ہے جیسا کہ دن کو کہا جائے کہ رات ہے یا اُجالے کو کہا جائے کہ اندھیرا ہے یا چشمہء شیریں کو کہا جائے کہ تلخ اور شور ہے۔جس دعا میں رات کے چار پہر برابر سوز و گداز اور گر یہ وازاری اور سجدات اور جانکا ہی میں گذریں کبھی ممکن نہیں کہ خدائے کریم ورحیم ایسی دعا کو نا منظور کرے خاص کر وہ دعا جو ایک مقبول کے منہ سے نکالی ہو۔تریاق القلوب -ر خ- جلد 15 صفحہ 242-241) دعا کا قبول نہ ہونا بعض اوقات انسان کسی دعا میں ناکام رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے دعا رد کر دی حالانکہ خدائے تعالیٰ اس کی دعا کوسن لیتا ہے اور وہ اجابت بصورت رد ہی ہوتی ہے کیونکہ اس کے لئے در پردہ اور حقیقت میں بہتری اور بھلائی اس کے رد ہی میں ہوتی ہے۔انسان چونکہ کوتاہ بین اور دور اندیش نہیں بلکہ ظاہر پرست ہے اس لئے اس کو مناسب ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرے اور وہ بظاہر اس کے مفید مطلب نتیجہ خیز نہ ہو تو خدا پر بدظن نہ ہو کہ اس نے میری دعا نہیں سنی۔وہ تو ہر ایک کی دعا سنتا ہے اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَكُمُ (المومن : 61) فرماتا ہے۔راز اور بھید یہی ہوتا ہے کہ داعی کے لئے خیر اور بھلائی رد دعا ہی میں ہوتی ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 67) وَ قَالُوا آمَنَّا بِهِ وَانّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيدٍ۔(سبا:53) جو مجھ سے دور ہو اس کی دعا کیونکر سنوں۔یہ گویا عام قانون قدرت کے نظارہ سے ایک سبق دیا ہے۔یہ نہیں کہ خدا سن نہیں سکتا۔وہ تو دل کے مخفی در مخفی ارادوں سے بھی واقف ہے جوا بھی پیدا نہیں ہوئے مگر یہاں انسان کو قرب الہی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جیسے دور کی آواز سنائی نہیں دیتی۔اسی طرح پر جو شخص غفلت اور فسق و فجور میں مبتلا رہ کر مجھ سے دور ہوتا جاتا ہے۔جس قدر وہ دور ہوتا ہے اسی قد رحجاب اور فاصلہ اس کی دعاؤں کی قبولیت میں ہوتا جاتا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 436)