حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 873 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 873

873 دعا خدا سے آتی ہے اور خدا کی طرف ہی جاتی ہے۔دعا سے خدا ایسا نزدیک ہو جاتا ہے۔جیسا کہ تمہاری جان تم سے نزدیک ہے۔دعا کی پہلی نعمت یہ ہے کہ انسان میں پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے پھر اس تبدیلی سے خدا بھی اپنی صفات میں تبدیلی کرتا ہے اور اس کے صفات غیر متبدل ہیں۔مگر تبدیلی یافتہ کے لئے اس کی ایک الگ تجلی ہے۔جس کو دنیا نہیں جانتی۔گویاوہ اور خدا ہے۔حالانکہ اور کوئی خدا نہیں۔مگر نئی تجلی نئے رنگ میں اس کو ظاہر کرتی ہے۔تب اس خاص تجلی کے شان میں اس تبدیل یافتہ کیلئے وہ کام کرتا ہے جو دوسروں کے لئے نہیں کرتا۔یہی وہ لیکچر سیالکوٹ رخ جلد 20 صفحہ 223 ) خوارق ہے۔ہر نبی نے دعا کی تعلیم دی ہے دنیا میں کوئی نبی نہیں آیا جس نے دعا کی تعلیم نہیں دی۔یہ دعا ایک ایسی شئی ہے جو عبودیت اور ربوبیت میں ایک رشتہ پیدا کرتی ہے۔اس راہ میں قدم رکھنا بھی مشکل ہے۔لیکن جو قدم رکھتا ہے پھر دعا ایک ایسا ذریعہ ہے کہ ان مشکلات کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔جب انسان خدا تعالیٰ سے متواتر دعائیں مانگتا ہے تو وہ اور ہی انسان ہو جاتا ہے اس کی روحانی کدورتیں دور ہو کر اس کو ایک قسم کی راحت اور سرور ملتا ہے اور ہر قسم کے تعصب اور ریا کاری سے الگ ہو کر وہ تمام مشکلات کو جو اس کی راہ میں پیدا ہوں برداشت کر لیتا ہے خدا کے لئے ان تختیوں کو جو دوسرے برداشت نہیں کرتے اور نہیں کر سکتے صرف اس لیے کہ خدا تعالیٰ راضی ہو جاوے برداشت کرتا ہے تب خدا تعالیٰ جو رحمان رحیم خدا ہے اور سراسر رحمت ہے اس پر نظر کرتا ہے اور اس کی ساری کلفتوں اور کدورتوں کو سرور سے بدل دیتا ہے۔آڑے وقت کی دعا لملفوظات جلد اول صفحہ 492) حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی فرماتے ہیں۔مجھ حقیر اور نا چیز کو خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و احسان سے کثرت کے ساتھ دعائیں کرنے کی توفیق بخشی ہے اور میری بہت سی عاجزانہ دعاؤں کو محض اپنی ازلی و ابدی اور بے پایاں رحمت سے شرف قبولیت بھی بخشا ہے میں نے اپنی التجاؤں میں قرآن کریم اور احادیث کی دعاؤں کے علاوہ سید نا حضرت مسیح موعود کی آڑے وقت کی دعا سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔یہ دعا حضرت اقدس کے ایک خط سے جو آپ نے حضرت مولانا نورالدین صاحب کے نام تحریر فرمایا ماخوذ کی گئی ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں۔”اے میرے محسن اور اے میرے خدا میں ایک تیرا نا کارہ بندہ پر معصیت اور پُر غفلت ہوں۔تو نے مجھے سے ظلم پر ظلم دیکھا اور انعام پر انعام کیا اور گناہ پر گناہ دیکھا اور احسان پر احسان کیا تو نے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بے شمار نعمتوں سے متمتع کیا۔سو اب بھی مجھے نالائق اور پُر گناہ پر رحم کر اور میری بیا کی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کو میرے اس غم سے نجات بخش کہ بجز تیرے اور کوئی چارہ گر نہیں، آمین۔( حیات قدسی جلد 3 صفحہ 12 )