حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 851 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 851

851 ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 89-88) کی طرف سے جو واقعات اور حادثات انسان پر آ کر پڑتے ہیں۔وہ ناگہانی ہوتے ہیں اور جب آپڑتے ہیں۔تو قهر در ویش بر جان در ولیش ان کو برداشت کرنا ہی پڑتا ہے جو کہ اس کے تزکیہ نفس کا باعث ہو جاتا ہے جیسے شہدا کو دیکھو۔کہ جنگ کے بیچ میں لڑتے لڑتے جب مارے جاتے ہیں تو خدا کے نزدیک کس قد راجر کے مستحق ہوتے ہیں۔یہ درجات قرب بھی ان کو قضاء وقدر سے ہی ملتے ہیں۔ورنہ اگر تنہائی میں ان کو اپنی گردنیں کاٹنی پڑیں۔تو شاید بہت وڑے ایسے نکلیں جو شہید ہوں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ غربا کو بشارت دیتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَ الْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَّ أُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ۔اس کا یہی مطلب ہے۔کہ قضاء وقدر کی طرف سے ان کو ہر ایک قسم کے نقصان پہنچتے ہیں۔اور پھر وہ جو صبر کرتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ کی عنایتیں اور رحمتیں ان کے شامل حال ہوتی ہیں۔کیونکہ تلخ زندگی کا حصہ ان کو بہت ملتا ہے۔لیکن امراء کو یہ کہاں نصیب۔أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا اَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ۔(العنكبوت:3) کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف زبانی قیل و قال پر ہی ان کو چھوڑ دیا جائے گا اور صرف اتنا کہنے سے ہی کہ ہم ایمان لے آئے دیندار سمجھے جائیں گے اور ان کا امتحان نہ ہوگا بلکہ امتحان اور آزمائش کا ہونا نہایت ضروری ہے۔سب انبیاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ترقی مدارج کے لئے آزمائش ضروری ہے اور جب تک کوئی شخص آزمائش اور امتحان کی منازل طے نہیں کرتا دیندار نہیں بن سکتا۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 330-329) ہر بلا کیں قوم را او داده است زیر آن یک گنج با بنهاده است ( ترجمہ: قوم کو جو بھی ابتلاء اللہ کی طرف سے آتا ہے اس کے نیچے بہت سے خزانے چھپے ہوئے ہوتے ہیں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تکالیف کا نتیجہ تھا کہ مکہ فتح ہو گیا۔دعا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ شرط باندھنا بڑی غلطی اور نادانی ہے۔جن مقدس لوگوں نے خدا کے فضل اور فیوض کو حاصل کیا۔انہوں نے اس طرح حاصل کیا کہ خدا کی راہ میں مر مر کر فنا ہو گئے۔خدا تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو دس دن کے بعد گمراہ ہو جانے والے ہوتے ہیں۔وہ اپنے نفس پر خود گواہی دیتے ہیں جبکہ لوگوں سے شکوہ کرتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوئی۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 299-298)