حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 850
850 قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا (الشمس: 10) یا درکھو کہ خدا کا یہ ہرگز منشاء نہیں کہ تم دنیا کو بالکل ترک کرد و بلکہ اس کا جومنشاء ہے وہ یہ ہے کہ قـــد اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا (الشمس: 10) تجارت کرو زراعت کرو ملازمت کرو اور حرفت کرو جو چا ہو کر دونگر نفس کو خدا کی نافرمانی سے روکتے رہو اور ایسا تزکیہ کرو کہ یہ امور تمہیں خدا سے غافل نہ کر دیں۔پھر جو تمہاری دنیا ہے یہی دین کے حکم میں آجاوے گی۔مجاہدات کے نتائج ( ملفوظات جلد پنجم صفحه 550) وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمُكُتُ فِي الْأَرْضِ۔(الرعد: 18) ہر قسم کی راحت صحت عمر و دولت یہ سب اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہے۔جب انسان کا وجود ایسا نافع اور سود مند ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا جیسے باغ میں کوئی درخت عمدہ پھل دینے والا ہو تو اسے باغبان کاٹ نہیں ڈالتا بلکہ اس کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح نافع اور مفید وجود کو اللہ تعالیٰ بھی محفوظ رکھتا ہے جیسا کہ اس نے فرمایا ہے وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الأرْضِ جو لوگ دنیا کے لئے نفع رساں لوگ بنتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی عمریں بڑھا دیتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں جو بچے ہیں اور کوئی ان کو جھٹلا نہیں سکتا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بچے اور فرمانبردار بندے ایسی بلاؤں سے محفوظ رہتے ہیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 184-183) ابتلا ضرور آتے ہیں وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرة۔156-158) یا درکھو کہ خدا کے فضل کے حاصل کرنے کے دوراہ ہیں۔ایک تو زہد نفس کشی اور مجاہدات کا ہے۔اور دوسرا قضا و قدر کا لیکن مجاہدات سے اس راہ کا طے کرنا بہت مشکل ہے۔کیونکہ اس میں انسان کو اپنے ہاتھ سے اپنے بدن کو مجروح اور خستہ کرنا پڑتا ہے عام طبائع بہت کم اس پر قادر ہوتی ہیں۔کہ وہ دیدہ و دانسته تکلیف جھیلیں۔لیکن قضاء وقدر