حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 852
852 ابتلاء کا فلسفہ انسان کے واسطے ترقی کرنے کے دو ہی طریق ہیں اول تو انسان تشریعی احکام۔یعنی نماز روزہ زکوۃ اور حج وغیرہ تکالیف شرعیہ کی پابندی سے جو کہ خدا کے حکم کے موجب خود بجالا کر کرتا ہے۔مگر یہ امور چونکہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتے ہیں اس لیے بھی اس میں ستی اور تساہل بھی کر بیٹھتا ہے۔اور کبھی ان میں کوئی آسانی اور آرام کی صورت ہی پیدا کر لیتا ہے لہذا دوسرا وہ طریق ہے۔جو براہ راست خدا کی طرف سے انسان پر وارد ہوتا ہے۔اور یہی انسان کی اصلی ترقی کا باعث ہوتا ہے۔کیونکہ تکالیف شرعیہ میں انسان کوئی نہ کوئی راہ بچاؤ یا آرام و آسائیش کی نکال ہی لیتا ہے دیکھو کسی کے ہاتھ میں تازیا نہ دے کر اگر اسے کہا جاوے کہ اپنے بدن پر مارو۔تو قاعدہ کی بات ہے۔کہ آخر اپنے بدن کی محبت دل میں آ ہی جاتی ہے کون ہے جو اپنے آپ کو دکھ میں ڈالنا چاہتا ہے؟ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے انسانی تکمیل کے واسطے ایک دوسری راہ رکھدی اور فرمایا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ط وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔(البقرة :157-156) ہم آزماتے رہیں گے۔تم کو کبھی کسی قدر خوف بھیج کر کبھی فاقہ سے کبھی مال جان اور پچھلوں پر نقصان وارد کرنے سے مگر ان مصائب شدائد اور فقر وفاقہ پر صبر کر کے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون کہنے والے کو بشارت دیدو کہ ان کے واسطے بڑے بڑے اجر خدا کی رحمتیں اور اس کے خاص انعامات مقرر ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 662-661) رنگ رلیوں میں رہنے سے آخر خدا کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے خدا کی محبت یہی ہے کہ ابتلاء میں ڈالتا ہے اور اس سے اپنے بندے کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے مثلاً کسر کی اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کا حکم نہ دیتا تو یہ معجزہ کہ وہ اسی رات مارا گیا کیسے ظاہر ہوتا اور اگر مکہ والے لوگ آپ کو نہ نکالتے تو فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا کی آواز کیسے سنائی دیتی۔ہر ایک معجزہ ابتلا سے وابستہ ہے غفلت اور عیاشی کی زندگی کو خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے کامیابی ہو تو تضرع اور ابتہال کا رشتہ تو بالکل رہتا ہی نہیں ہے حالانکہ خدا تعالیٰ اسی کو پسند کرتا ہے اس لیے ضرور ہے کہ درد ناک حالتیں پیدا ہوں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 587-586) یہ ضروری ہے کہ ایک آدمی کی ایمانی کیفیتوں کے اظہار کے لئے اس پر ابتلاء آویں اور وہ امتحان کی چکی میں پیسا جاوے۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے۔ہر بلا کیں قوم راحق داده اند زیر آن گنج کرم بنهاده اند قوم کو جو بھی ابتلا خدا کی طرف سے پیش آتا ہے اس کے نیچے بہت اکرام کے خزانے چھپے ہوتے ہیں ابتلاؤں اور امتحانوں کا آنا ضروری ہے بغیر اس کے کشف حقائق نہیں ہوتا۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 376-375)