حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 773
773 صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔پس جبکہ قرآنی اصطلاح میں اللہ کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ جو شخص اللہ پر ایمان لاوے تبھی اس کا ایمان معتبر اور صحیح سمجھا جائے گا۔جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاوے۔خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ مَنْ آمَنَ بِالرَّحْمَنِ یا مَنْ آمَنَ بِالرَّحِيمِ يَا مَنْ آمَنَ بِالْكَرِيمِ بلکہ یہ فرمایا کہ مَنْ آمَنَ بِاللهِ اور اللہ سے مراد وہ ذات ہے جو مجمع جمیع صفات کا ملہ ہے اور ایک عظیم الشان صفت اس کی یہ ہے کہ اس نے قرآن شریف کوا تارا۔اس صورت میں ہم صرف ایسے شخص کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ وہ اللہ پر ایمان لایا جبکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لایا ہو اور قرآن شریف پر بھی ایمان لایا ہوا اگر کوئی کہے کہ پھر اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا کے کیا معنی ہوئے تو یادر ہے کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ جو لوگ محض خدا تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان معتبر نہیں ہے جب تک خدا کے رسول پر ایمان نہ لاویں یا جب تک اس ایمان کو کامل نہ کریں۔اس بات کو یا درکھنا چاہئے کہ قرآن شریف میں اختلاف نہیں ہے پس یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ صدہا آیتوں میں تو خدا تعالیٰ یہ فرمادے کہ صرف تو حید کافی نہیں ہے۔بلکہ اس کے نبی پر ایمان لانا نجات کے لیے ضروری ہے بجز اس صورت کے کہ کوئی اس نبی سے بغیر رہا ہو اور پھر کسی ایک آیت میں برخلاف اس کے یہ بتلا دے کہ صرف توحید سے ہی نجات ہو سکتی ہے قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی کچھ ضرورت نہیں اور طرفہ یہ کہ اس آیت میں توحید کا ذکر بھی نہیں اگر تو حید مراد ہوتی تو یوں کہنا چاہیئے تھا کہ من آمَنَ بِالتَّوحِيدِ مگر آیت کا تو یہ لفظ ہے کہ مَنْ آمَنَ بِاللهِ پس آمَنَ بِاللہ کا فقرہ ہم پر یہ واجب کرتا ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ قرآن شریف میں اللہ کا لفظ کن معنوں پر آتا ہے۔ہماری دیانت کا یہ تقاضا ہونا چاہیئے کہ جب ہمیں خود قرآن سے ہی یہ معلوم ہو کہ اللہ کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے قرآن بھیجا اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تو ہم اسی معنی کو قبول کر لیں جو قرآن شریف نے بیان کیے اور خودروی اختیار نہ کریں۔(حقیقۃ الوحی۔رخ - جلد 22 صفحہ 144-147) قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُونَ (الاعراف: 26) زمین پر ہی تم زندگی بسر کرو گے۔اب دیکھو اگر کوئی آسمان پر جا کر بھی کچھ حصہ زندگی کا بسر کرتا ہے تو اس سے اس آیت کی تکذیب لازم آتی ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 90-91) قرآن شریف میں اول سے آخر تک جس جس جگہ تو فی کا لفظ آیا ہے ان تمام مقامات میں توفی کے معنی موت ہی لیے گئے ہیں۔(ازالہ اوهام - ر-خ- جلد 3 صفحہ 224 حاشیہ )