حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 774 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 774

774 وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يُعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ۔۔۔۔۔الآخر (المائده: 117118) ہم علی وجہ البصیرت یقین رکھتے ہیں کہ توفی کے معنی لغت عرب میں اور کلام خدا اور رسول میں ہرگز مع جسم عصری اٹھائے جانے کے نہیں ہیں۔تمام قرآن شریف کو یکجائی نظر سے دیکھنا چاہئے قرآن خدائے علیم وخبیر کی طرف سے کامل علم اور حکمت سے نازل کیا گیا ہے اس میں اختلاف ہر گز نہیں۔بعض آیات بعض کی تفسیر واقع ہوئی ہیں اگر ایک متشابہات ہیں تو دوسری محکمات ہیں۔جب یہی لفظ اور مقامات میں دوسرے انبیاء کے حق میں بھی وارد ہے تو اس کے معنے بجز موت کے اور کچھ نہیں لیے جاتے تو پھر نہ معلوم کہ کیوں حضرت مسیح کو ایسی خصوصیت دی جاتی ہے کیا ابھی تک مسیح کو خصوصیت دینے کا انہوں نے مزہ نہیں چکھا۔( ملفوظات جلد پنچم صفحہ: 599) قرآن حکیم کی آیات محکمات و متشابہات ہیں هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ ايَتٌ مُّحْكَمْتُ هُنَّ أُمُّ الْكِتَبِ وَأَخَرُ مُتَشبِهتْ ، فَلَمَّا الَّذِيْنَ فِي قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ ، الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَاءَ تَأْوِيْلِهِ وَ مَا يَعْلَمُ تَأْوِيْلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّسِحُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ امَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَايَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُوا الْأَلْبَابِ۔(آل عمران:8) ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اس حالت میں مان لینا جبکہ ابھی علم کمال تک نہیں پہنچا اور شکوک اور شبہات سے ہنوز لڑائی ہے پس جو شخص ایمان لاتا ہے یعنی با وجود کمزوری اور نہ مہیا ہونے کل اسباب یقین کے اس بات کو اغلب احتمال کی وجہ سے قبول کر لیتا ہے وہ حضرت احدیت میں صادق اور راستباز شمار کیا جاتا ہے اور پھر اس کو موہبت کے طور پر معرفت تامہ حاصل ہوتی ہے اور ایمان کے بعد عرفان کا جام اس کو پلایا جاتا ہے۔اس لیے ایک مرد متقی رسولوں اور نبیوں اور مامورین من اللہ کی دعوت کو سن کر ہر ایک پہلو پر ابتداء امر میں ہی حملہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ حصہ جو کسی مامور من اللہ ہونے پر بعض صاف اور کھلے کھلے دلائل سے سمجھ آجاتا ہے اُسی کو اپنے اقرار اور ایمان کا ذریعہ ٹھہرا لیتا ہے اور وہ حصہ جو سمجھ میں نہیں آتا اس میں سنت صالحین کے طور پر استعارات اور مجازات قرار دیتا ہے اور اس طرح تناقض کو درمیان سے اٹھا کر صفائی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آتا ہے۔تب خدا تعالیٰ اس کی حالت پر رحم کر کے اور اس کے ایمان پر راضی ہو کر اور اس کی دعاؤں کو سن کر معرفت تامہ کا دروازہ اس پر کھولتا ہے اور الہام اور